مصر کے سابق وزیر خارجہ نبیل فہمی کو عرب لیگ کا نیا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
یہ اہم تقرری عرب لیگ کے 165ویں عام اجلاس کے دوران عمل میں آئی، جو عمان کے دارالحکومت میں منعقد ہوا۔ اس تقریب میں عرب لیگ کے رکن ممالک کے نمائندے جمع تھے، اور اس موقع پر 75 سالہ نبیل فہمی کو پانچ سالہ مدت کے لیے اس اہم عہدے کا ہدف سونپا گیا۔نبیل فہمی کا یہ عہدہ سنبھالنا 1 جولائی سے شروع ہوگا، اور وہ اس سے قبل موجودہ سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط کی جگہ لیں گے جنہوں نے مسلسل دو مرتبہ اس عہدے پر خدمات انجام دی ہیں۔ احمد ابو الغیط نے اپنی خدمات کے دوران عرب ممالک کے اتحاد اور علاقائی امور میں اہم کردار ادا کیا، اور اب ان کی جگہ نبیل فہمی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔نبیل فہمی کا یہ تقرری اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہ ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں۔ انہوں نے جون 2013 سے جولائی 2014 تک مصر کی وزارت خارجہ کی قیادت کی، اور ان کے پاس علاقائی اور بین الاقوامی میدانوں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ مارچ میں انہیں عرب ممالک کا متفقہ طور پر 22 رکنی عرب لیگ کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔
عرب وزارت خارجہ کی طرف سے اس تقرری پر ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ انتخاب نبیل فہمی کے پاس موجود سفارتی تجربے اور ان کے پیشہ ورانہ کیرئیر کی تعریف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر عرب ممالک کی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور عرب عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔نبیل فہمی کی تقرری کا مقصد عرب ممالک کے اتحاد کو مضبوط بنانا، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر عرب ریاستوں کے مفادات کا تحفظ کرنا، اور عرب لیگ کو ایک فعال اور مؤثر ادارہ بنانا ہے۔ یہ تقرری عرب خطے میں سیاسی، اقتصادی، اور سکیورٹی کے اہم امور میں عرب ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔