فیصل آباد جیل ٹرائل پر اعتراض، لاہور ہائیکورٹ نے عمر ایوب کو طلب کر لیا

فیصل آباد جیل ٹرائل پر اعتراض، لاہور ہائیکورٹ نے عمر ایوب کو طلب کر لیا

اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمر ایوب خان کو سانحہ 9 مئی کے مقدمات کے سلسلے میں فیصل آباد جیل ٹرائل کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے عمر ایوب کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی طرف سے ایڈووکیٹ زین شیخ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ:"عمر ایوب خان کا انسدادِ دہشت گردی عدالت میں جیل ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ ایک سماعت کے دوران ان کے وکیل بابر اعوان پیش نہ ہو سکے، جس پر ان کی التواء کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد عمر ایوب کی مرضی کے بغیر ڈیفنس کونسل مقرر کی گئی، جس سے سرکاری گواہان پر جرح بھی کروا دی گئی۔"چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا:"کیا آپ نے ڈیفنس کونسل کی تقرری کو کسی فورم پر چیلنج کیا ہے؟"جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی ہاں، تقرری کو چیلنج کیا گیا ہے۔

عدالت نے مزید سوال کیا کہ:"جب آپ نے وکالت نامے واپس لینے کی درخواستیں دائر کیں تو کیا اس وقت ملزم عدالت میں موجود تھا؟"زین شیخ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وہ تمام کارروائی عمر ایوب کی ہدایات پر کی گئی۔عدالت نے وکیل سے پوچھا کہ کیا عمر ایوب اس وقت عدالت میں موجود ہیں؟جس پر بتایا گیا کہ وہ عدالت میں موجود نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے:"آپ اپنے موکل کو آئندہ سماعت پر لازمی طور پر عدالت میں پیش کریں۔"یاد رہے کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد عمر ایوب خان سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔ فیصل آباد میں ان مقدمات کا ٹرائل جیل کے اندر کیا جا رہا ہے، جس پر عمر ایوب نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔