لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے زیرِ انتظام علاقوں میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم طلب اور رسد کے درمیان فرق کے باعث شارٹ فال اب بھی برقرار ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق شام 5 بجے سے رات 12 بجے تک بجلی کی اوسط طلب 3787 میگاواٹ رہی جبکہ اس دوران سپلائی 3053 میگاواٹ فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں 682 میگاواٹ کا شارٹ فال ریکارڈ ہوا۔اس دوران صنعتی شعبے کو ترجیح دیتے ہوئے انڈیپنڈنٹ انڈسٹری کو بلا تعطل بجلی فراہم کی گئی، جبکہ کمرشل اور انڈسٹریل فیڈرز پر تقریباً 2، 2 گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔ شہری اور دیہی علاقوں میں اوسطاً 1 گھنٹہ 30 منٹ تک بجلی کی بندش ریکارڈ کی گئی۔رات 12 بجے سے صبح 5 بجے کے دوران صورتحال نسبتاً بہتر رہی، اس وقت بجلی کی طلب 3510 میگاواٹ جبکہ فراہمی 2824 میگاواٹ رہی، جس سے شارٹ فال کم ہو کر 607 میگاواٹ رہ گیا۔
اس دوران انڈسٹریل اور کمرشل فیڈرز پر لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی، جس سے کاروباری سرگرمیوں کو کسی حد تک تسلسل ملا۔ تاہم شہری علاقوں میں تقریباً 45 منٹ جبکہ دیہی علاقوں میں 1 گھنٹہ تک لوڈ شیڈنگ کی گئی۔ماہرین کے مطابق اگرچہ لوڈ مینجمنٹ میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن بجلی کی مجموعی طلب اور پیداوار میں فرق اب بھی توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔