سعودی سرمایہ،افغان دباؤاورامریکی فُٹ پرنٹ

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
تیسرامگراہم سوال یہ ہے کہ حوثی حملے،سعودی اضطراب اورافغانستان سے پاکستان مخالف گروہوں کے معاملے میں مالی سودے بازی کوہم کس نگاہ سے دیکھتے ہیں:یہ حصہ سب سے زیادہ احتیاط چاہتاہے،کیونکہ زمانی قربت ہمیشہ سببی تعلق ثابت نہیں کرتی۔ اگریہ درست ہوکہ کسی دفاعی بندوبست کے بعدحوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا،تب بھی محض اس کے بعدوقوع پذیرہونایہ ثابت نہیں کرتاکہ حملے اسی کے سبب ہوئے۔یمن،ایران،بحیر احمر،اسرائیل،امریکااورسعودی عرب کاسلامتی کادائرہ اپنی الگ تاریخ اورمحرکات رکھتاہے۔دوسری طرف افغانستان کی توانائی،دہشتگردی او پاکستان سے سرحدی کشیدگی بالکل دوسری جغرافیائی بساط ہے۔ممکن ہے بڑے ممالک بیک وقت کئی محاذوں پرتوازن پیداکررہے ہوں مگرہردوواقعات کوایک پوشیدہ معاہدے کی لڑی میں پرودیناتحقیق کوافسانے کے قریب لے جاسکتاہے۔
افغان طالبان کی جانب سے پاکستان مخالف مسلح عناصرکوسرحدی علاقوں سے دورمنتقل کرنے کیلئے مالی معاونت کامطالبہ اب محض اخباری قیاس یاغیرمصدقہ سیاسی دعوی نہیں رہا۔یہ معاملہ پاکستان کی پارلیمانی اورسرکاری سطح پربھی زیرِبحث آچکاہے،جبکہ وزیرِ دفاع کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آیاہے کہ افغان طالبان نے ایسے عناصرکی منتقلی کیلئے وسائل اورمالی مددکامسئلہ اٹھایاہے۔ اسلام آبادکی طرف سے اس امکان کوبھی یکسررد نہیں کیاگیاکہ اگرکسی منظم انتظام کے ذریعے پاکستان کی سلامتی کے خطرات میں حقیقی کمی آسکتی ہوتو محدودمعاونت پرغورکیاجاسکتاہے۔
لیکن یہاں اصل سوال رقم کی مقدارکانہیں،بلکہ اس رقم کے عوض حاصل ہونے والی سلامتی کی حقیقی اورقابلِ تصدیق ضمانت کا ہے۔اگردہشتگردی کی روک تھام ایک مالی معاوضے سے مشروط ہونے لگے تویہ سوال ناگزیرہوجاتاہے کہ آیاپاکستان کسی مسئلے کا پائیدارحل خریدرہاہے یاایک ایسی روایت کی بنیادرکھ رہاہے جس میں سلامتی خودایک قابلِ فروخت شے بن جائے۔آج ایک مسلح گروہ کوسرحدسے دوررکھنے کیلئے رقم دی جائے،توکل کسی دوسرے گروہ،کسی نئی محفوظ پناہ گاہ یاکسی نئے بحران کیلئے ایک اورقیمت طلب کی جاسکتی ہے۔یوں
ریاستی ذمہ داری رفتہ رفتہ مالی سودے بازی میں تبدیل ہونے کاخطرہ پیداکردیتی ہے۔
فرض کیجیے پاکستان ایک بڑی مالی معاونت فراہم کرتاہے اورپاکستان مخالف مسلح عناصرکوکنڑ،ننگرہاریادوسرے سرحدی علاقوں سے اٹھاکرافغانستان کے اندرکسی دوردرازمقام پر منتقل کردیاجاتاہے۔بظاہرسرحدی خطرہ کم ہوتامحسوس ہوگا،لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیااس منتقلی کے ساتھ ان گروہوں کی جنگی صلاحیت بھی ختم ہوگی؟کیاان کے کمانڈاینڈکنٹرول مراکزتحلیل کیے جائیں گے؟کیاان کے مالی ذرائع منقطع ہوں گے؟کیاان کااسلحہ ضبط ہوگا؟کیاان کے تربیتی ڈھانچے ختم کیے جائیں گے؟او سب سے بڑھ کر،کیاافغان حکومت ایسی ذمہ داری قبول کرے گی جسے بعدمیں عملی طورپرجانچااورپرکھابھی جاسکے؟
اگران سوالات کاجواب واضح طورپراثبات میں نہیں،تومحض جغرافیائی منتقلی مسئلے کاحل نہیں۔یہ ایساہی ہوگاجیسے خطرے کوختم کرنے کی بجائے اسے ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کردیاجائے۔مسلح تنظیموں کی طاقت صرف ان کے ٹھکانے میں نہیں ہوتی؛ ان کی قوت ان کے نیٹ ورک، مالیاتی ذرائع،نظریاتی ڈھانچے،مقامی سہولت کاروں،انٹیلی جنس روابط، محفوظ پناہ گاہوں اورسرحدپار رسائی میں ہوتی ہے۔اگریہ سب قائم رہیں توچند سوکلومیٹرکافاصلہ سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔اسی لیے پاکستان کوکسی بھی ممکنہ انتظام میں یہ اصول بنیادی شرط کے طورپررکھناچاہیے کہ مالی تعاون محض افرادکی نقل مکانی کی قیمت نہ بنے،بلکہ اسے ایک جامع،مرحلہ واراورقابلِ تصدیق سلامتی کے بندوبست سے جوڑا جائے ۔ایسابندوبست جس میں متعلقہ مسلح عناصرکی تعداد،مقامات اورنقل وحرکت کی تصدیق ممکن ہو؛ان کی سرحدپارکارروائی کی صلاحیت ختم کرنے کے عملی شواہد سامنے آئیں؛ ان کے مالیاتی اورجنگی ڈھانچے پرقدغن لگائی جائے؛اورخلاف ورزی کی صورت میں پہلے سیطے شدہ سیاسی، سفارتی یامالی نتائج موجودہوں۔یعنی پاکستان کوایک ایسے انتظام کی ضرورت ہوگی جس میں قیمت آج اداکردی جائے اورضمانت کسی غیرمعین کل پرنہ چھوڑدی جائے۔
اس پورے معاملے کاایک بنیادی قانونی اوراخلاقی پہلوبھی ہے۔اپنی سرزمین کوکسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا اصولاًکسی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔اگر کابل یہ کہتاہے کہ اسے پاکستان مخالف مسلح گروہوں کودورمنتقل کرنے یامحدودکرنے کیلئے مالی وسائل درکارہیں،تواسلام آبادبجاطورپرپوچھ سکتاہے کہ کیایہ ایک انتظامی مشکل ہے جس کے حل میں وقتی معاونت دی جا سکتی ہے،یاپھرایک ایسی ذمہ داری ہے جسے پوراکرنے کیلئے متاثرہ ملک ہی کوباربارمالی قیمت اداکرنی ہوگی؟دونوں صورتوں میں زمین آسمان کافرق ہے۔
پاکستان اورافغانستان کاتعلق کسی عام ہمسایگی کی کہانی نہیں۔گزشتہ چاردہائیوں میں پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی،افغانستان کے سیاسی انتشار، جنگ، اسلحے ،منشیات،سرحدی بدامنی،دہشتگردی اورمعاشی عدم استحکام کے اثرات برداشت کیے۔اس تاریخی پس منظرمیں اگرپاکستان سے یہ توقع کی جائے کہ اب وہ اپنی ہی سلامتی کویقینی بنانے کیلئے ان عناصرکی منتقلی پرمالی معاونت کرے جوافغان سرزمین سے اس کے خلاف سرگرم ہیں،توپاکستانی ریاست اورمعاشرے میں اعتراض پیداہونافطری ہے۔لیکن ریاستی حکمت صرف جذبات سے نہیں چلتی۔اگرایک محدود،شفاف،مشروط اورقابلِ نگرانی مالی بندوبست حقیقتادہشتگردحملوں میں نمایاں کمی لاسکتاہو،ہزاروں انسانی جانیں بچاسکتاہو اور پاکستان کی مغربی سرحدکوطویل المدت استحکام دے سکتاہو،تواسے محض اصولی سختی کے نام پرمستردکردینابھی دانشمندی نہیں ہوگی۔تاہم ایسی معاونت کی نوعیت محض امن خریدنے کی نہیں ہونی چاہیے۔پاکستان کوامن خریدنے کی بجائے قابلِ تصدیق امن کاانتظام حاصل کرناچاہیے۔
امن خریدنے کامطلب یہ ہوگاکہ رقم دی جائے،وعدہ لیاجائے اورپھرامیدرکھی جائے کہ وعدہ پوراہوگا۔قابلِ تصدیق امن کامطلب اس کے برعکس ہوگا:واضح شرائط،مرحلہ وار ادائیگی،مسلسل نگرانی،انٹیلی جنس تصدیق،عملی نتائج اورخلاف ورزی کی صورت میں متعین ذمہ داری۔اگرافغان طالبان واقعی پاکستان کے ساتھ ایک سنجیدہ سلامتی کابندوبست چاہتے ہیں توانہیں بھی اسی درجے کی جواب دہی قبول کرناہوگی۔پاکستان کیلئے محض زبانی یقین دہانی اس لیے کافی نہیں ہوسکتی کہ خطے کی گزشتہ تاریخ میں وعدوں،مفاہمتوں اور زمینی حقائق کے درمیان بارہانمایاں فاصلہ دیکھاگیاہے۔اس لیے اعتمادکامتبادل صرف اعتمادنہیں،بلکہ قابلِ تصدیق نظام ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں افغانستان میں بڑھتی ہوئی سعودی اقتصادی دلچسپی ایک نئے سیاسی مفہوم کے ساتھ سامنے آتی ہے۔اگرریاض افغانستان میں بڑے اقتصادی مفادات قائم کر رہاہے توپاکستان کیلئے دانش مندانہ راستہ یہ نہیں ہوگاکہ وہ صرف یہ سوال اٹھائے کہ سعودی عرب کابل میں سرمایہ کیوں لگارہاہے۔اس سے زیادہ مفیدیہ ہوگاکہ سعودی عرب کے نئے اقتصادی اثرکوافغانستان کے ذمہ دار علاقائی رویے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جائے۔اگرکابل سعودی سرمایہ،توانائی،بنیادی ڈھانچے اوراقتصادی شراکت داری سے فائدہ اٹھاناچاہتاہے،توپاکستان یہ سفارتی مؤقف اختیارکر سکتاہے کہ ایسے تعلقات افغانستان کی اس ذمہ داری سے جدانہیں ہونے چاہئیں کہ اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف مسلح کارروائیوں کیلئے استعمال نہ ہو۔یوں سعودی سرمایہ کاری پاکستان پردباؤکاآلہ بننے کی بجائے کابل کے رویے پرمثبت اثرڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہاں پاکستان کیلئے غصے سے زیادہ تدبیراورردِعمل سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔سیاست میں کبھی دروازہ بندکردیناسب سے آسان کام ہوتاہے،لیکن زیادہ مؤثرحکمت یہ ہے کہ دروازے کے دوسری طرف موجود قوتوں کے مفادات کواپنے قومی مفادکے ساتھ اس طرح جوڑدیاجائے کہ تعاون سب کیلئے سودمنداورخلاف ورزی سب کیلئے مہنگی ہو جائے ۔
افغانستان کے ساتھ بھی پاکستان کویہی اصول اختیارکرناہوگا۔
اگرکوئی مالی معاونت دی جائے تووہ محض نقل مکانی کیلئے نہیں،بلکہ دہشتگردی کے پورے ڈھانچے کوغیرمؤثربنانے کیلئے ہو۔مسلح عناصرکوایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقل کردینا کافی نہیں؛ان کی تنظیمی ساخت،تربیتی مراکز،مالیاتی نیٹ ورک،ہتھیار،سرحد پارروابط اورعملی صلاحیت ختم کرناضروری ہوگا۔ورنہ خطرہ اپنی ماہیت نہیں بدلتا،صرف اپناپتہ بدلتا ہے اورسانپ کوصحن کے ایک کونے سے اٹھاکردوسرے کونے میں رکھ دینے سے گھرمحفوظ نہیں ہوجاتا۔اسی لیے پاکستان کیلئے درست سوال یہ نہیں کہ رقم دینی چاہیے یانہیں؟بلکہ یہ ہے کہ اگررقم دی جائے تواس کے بدلے ایسا کون ساناقابلِ تردیدسلامتی کانظام قائم ہوگاجودہشتگردی کووقتی طورپرنہیں بلکہ ساختی طورپرمحدود کرے؟اگراس سوال کا واضح، دستاویزی اورقابلِ تصدیق جواب موجود نہ ہو،تومالی معاونت مسئلے کاحل کم اورمستقبل کی بلیک میلنگ کیلئے ایک خطرناک نظیر زیادہ بن سکتی ہے۔(جاری ہے)