قاسم علی
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض دو ریاستوں کے درمیان سفارتی روابط کا نام نہیں بلکہ یہ تعلقات تاریخ، عقیدے، باہمی اعتماد، اخوت اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت سے عبارت ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان تعلقات نے مذہبی اور عوامی سطح سے بڑھ کر دفاع، سفارت کاری، معیشت اور علاقائی سلامتی کے شعبوں تک ایک جامع شکل اختیار کی ہے۔حالیہ دنوں میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا ایک مرتبہ پھر واضح اظہار سامنے آیا ہے۔ ان کے بیان میں چند ایسے نکات نمایاں ہیں جو پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی و تزویراتی تعلقات کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان محض رسمی سفارتی زبان نہیں بلکہ پاکستان کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت سعودی عرب کی سلامتی کو ایک اہم برادر ملک کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کو ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط، دفاعی تعاون، فوجی تربیت، مشاورت اور باہمی دورے اس تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد بھی دونوں ملکوں کے درمیان انسانی اور معاشی روابط کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو کا دوسرا اہم پہلو سفارتی اور عملی تعاون کا ذکر ہے۔ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو ہر قسم کی سفارتی اور عملی معاونت فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یہاں ‘‘Physical Support’’ کا تصور خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف بیانات، قراردادوں یا سفارتی حمایت تک محدود نہیں بلکہ دفاعی اور عملی تعاون بھی اس تعلق کا حصہ ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج اور سعودی عرب کے دفاعی اداروں کے درمیان طویل عرصے سے تعاون موجود رہا ہے۔ پاکستانی فوجی اہلکاروں اور افسران کی سعودی عرب میں خدمات، تربیتی تعاون اور دفاعی روابط دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی ایک اہم مثال ہیں۔ اس تعاون نے کئی دہائیوں کے دوران ایک ایسا رشتہ تشکیل دیا ہے جس میں ایک دوسرے کے تجربات اور صلاحیتوں سے استفادہ کیا جاتا رہا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی صرف کسی ایک ملک کا معاملہ نہیں رہی۔ خطے میں ہونے والی کسی بھی بڑی پیش رفت کے اثرات نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کی اہم معیشتوں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کے نظام میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی استحکام اور سلامتی کی اہمیت عالمی سطح پر بھی موجود ہے۔
پاکستان کا مؤقف اس تناظر میں اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان خود ایک بڑی اور تجربہ کار دفاعی قوت رکھنے والا ملک ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے مختلف ادوار میں دہشت گردی، سرحدی خطرات اور علاقائی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ اس تجربے کی بنیاد پر پاکستان خطے کی سلامتی کے معاملات میں ایک اہم فریق سمجھا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا تیسرا اہم پہلو سعودی عرب اور بالخصوص حرمین شریفین کے تحفظ سے متعلق ہے۔ پاکستان کے عوام کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حیثیت غیر معمولی مذہبی اور روحانی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں حرمین شریفین کا احترام اور تحفظ ہمیشہ ایک حساس اور اہم موضوع رہا ہے۔
پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد ہر سال عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب جاتی ہے۔ اس اعتبار سے سعودی عرب پاکستانی عوام کے لیے صرف ایک دوست ملک نہیں بلکہ ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں اسلام کے مقدس ترین مقامات واقع ہیں۔ اس لیے سعودی عرب کے استحکام اور سلامتی کے حوالے سے پاکستانی عوام کے جذبات غیر معمولی طور پر مضبوط ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو میں یہ پیغام بھی نمایاں طور پر سامنے آتا ہے کہ پاکستان صرف مستقبل میں ساتھ دینے کی بات نہیں کر رہا بلکہ پاکستان پہلے ہی موجود ہے اور سعودی عرب کے تحفظ اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔
یہ جملہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے ایک اہم پہلو کو واضح کرتا ہے۔ ریاستوں کے درمیان تعلقات کی اصل آزمائش مشکل حالات میں ہوتی ہے۔ خوشحالی اور معمول کے حالات میں دوست ممالک کے درمیان تعاون ایک معمول کی بات ہو سکتی ہے، لیکن مشکل وقت میں عملی طور پر ساتھ کھڑا ہونا تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ دونوں ملکوں نے مختلف مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ سعودی عرب کی دفاعی ضروریات میں پاکستانی تربیتی اور مشاورتی کردار اور دونوں ممالک کے دفاعی اداروں کے باہمی روابط اس تعاون کی نمایاں مثالیں ہیں۔
چوتھا اور شاید سب سے زیادہ واضح پیغام یہ ہے کہ سعودی عرب کے لیے پاکستان کی حمایت غیر مشروط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اپنے برادر ملک کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑا ہونے کے عزم کا اظہار کر رہا ہے۔ تاہم اس حمایت کو سفارتی اور دفاعی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور ہر صورتحال میں اس کی عملی شکل متعلقہ ریاستی فیصلوں اور حالات کے مطابق طے ہوتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں ریاستیں اپنے قومی مفادات، سلامتی اور علاقائی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے ساتھ ساتھ تاریخی اعتماد بھی ایک اہم عنصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی گہرے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاشی تعلقات بھی اس شراکت داری کا ایک اہم ستون ہیں۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی روزگار سے وابستہ رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے ترسیلات زر میں سعودی عرب سے آنے والی رقوم اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے حوالے سے بھی ایک اہم شراکت دار ہے۔
اس لیے دونوں ممالک کے تعلقات کو صرف دفاعی زاویے سے دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ دفاع، معیشت، سفارت کاری، افرادی قوت، مذہبی روابط اور عوامی تعلقات مل کر پاکستان سعودی عرب شراکت داری کو ایک وسیع بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں پاکستان کی پوزیشن کو واضح الفاظ میں دنیا کے سامنے رکھا گیا ہے۔ موجودہ عالمی ماحول میں جب علاقائی تنازعات کے اثرات سرحدوں سے باہر تک پہنچتے ہیں، ایسے میں ریاستوں کی جانب سے اپنے شراکت داروں کے بارے میں واضح مؤقف اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے لیے سعودی عرب کی سلامتی اہم ہے، جبکہ سعودی عرب کے لیے بھی پاکستان ایک اہم دفاعی اور افرادی قوت کا شراکت دار ہے۔ یہی باہمی ضرورت دونوں ممالک کے تعلقات کو محض جذباتی وابستگی سے آگے لے جاتی ہے اور اسے عملی شراکت داری میں تبدیل کرتی ہے۔
حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے پاکستانی مؤقف کو عوامی جذبات کے تناظر میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی سعودی عرب کے ساتھ عوامی اور مذہبی روابط مضبوط رہے ہیں۔ پاکستانی عوام کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے تعلق ایک گہری روحانی وابستگی ہے۔ اس لیے سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں کسی بھی پیش رفت پر پاکستان میں عوامی دلچسپی فطری طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے۔
تاہم ریاستی سطح پر کسی بھی دفاعی یا عملی اقدام کی نوعیت متعلقہ حکام، معاہدوں، آئینی تقاضوں اور زمینی حالات کے مطابق طے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو پاکستان کے مجموعی دفاعی اور سفارتی مؤقف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دونوں ممالک نے وقت کے ساتھ اپنے تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کیا ہے۔ آج یہ تعلقات صرف مذہبی اور سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ دفاعی تربیت، انسداد دہشت گردی، سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، افرادی قوت اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں تک پھیل چکے ہیں۔موجودہ صورتحال میں سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع کے لیے پاکستان کا دوٹوک مؤقف دونوں ملکوں کے درمیان موجود اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان یہ پیغام دے رہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات محض رسمی نوعیت کے نہیں بلکہ ضرورت کے وقت عملی تعاون کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ برادرانہ تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستی فیصلے جذباتی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ ایک ذمہ دار ریاست اپنے قومی مفادات، بین الاقوامی ذمہ داریوں اور علاقائی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں بھی یہی اصول اہم ہے۔ باہمی احترام اور اعتماد کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے اپنے اپنے قومی مفادات بھی موجود ہیں، جو اس شراکت داری کو ایک حقیقت پسندانہ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا مرکزی پیغام بہرحال واضح ہے: پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے حوالے سے اپنے تعاون کے عزم کا اعادہ کر رہا ہے۔ اس بیان میں سفارتی حمایت کے ساتھ عملی تعاون کا ذکر بھی موجود ہے، جو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے سعودی عرب ایک اہم برادر ملک ہے اور سعودی عرب کے لیے پاکستان ایک اہم دفاعی و افرادی قوت کا شراکت دار۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا یہ رشتہ کئی دہائیوں میں تشکیل پایا ہے۔ وقت کے ساتھ علاقائی حالات تبدیل ہوئے، عالمی سیاست میں نئی صف بندیاں ہوئیں، مگر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں رابطے اور تعاون کا سلسلہ برقرار رہا۔
آج جب خطہ مختلف نوعیت کے سلامتی کے چیلنجز سے گزر رہا ہے، ایسے میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اظہار ایک اہم سفارتی اور دفاعی پیغام ہے۔ اس پیغام میں صرف مستقبل کا وعدہ نہیں بلکہ ماضی کے تعاون اور موجودہ شراکت داری کا حوالہ بھی موجود ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی اصل طاقت صرف سرکاری بیانات میں نہیں بلکہ ان روابط میں ہے جو دہائیوں کے دوران ادارہ جاتی اور عوامی سطح پر قائم ہوئے ہیں۔ دفاعی اداروں کے باہمی روابط، پاکستانی افرادی قوت کی سعودی عرب میں موجودگی، حج و عمرہ کے مذہبی روابط، معاشی تعاون اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اس تعلق کو ایک وسیع بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو کو محض ایک بیان کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ موجود دفاعی اور تزویراتی تعلقات کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کا پیغام یہ ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے اس کا مؤقف واضح ہے۔ پاکستان سفارتی سطح پر بھی ساتھ کھڑا ہے اور عملی تعاون کے لیے بھی اپنے کردار کی بات کر رہا ہے۔ حرمین شریفین کے تحفظ کو بھی اس تعلق میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
آخرکار پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دو ریاستوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہیں جس میں تاریخ، مذہب، عوامی روابط، دفاعی تعاون اور باہمی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ انٹرویو نے اسی تعلق کے ایک بنیادی پہلو کو دوبارہ نمایاں کیا ہے کہ مشکل وقت میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون محض الفاظ تک محدود نہیں رہتا۔
سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تاریخی اعتماد اس مؤقف کی بنیادوں میں شامل ہے۔ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال جو بھی رخ اختیار کرے، پاکستان سعودی عرب تعلقات کی اہمیت برقرار رہنے کی توقع ہے، کیونکہ یہ تعلق محض وقتی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط سفارتی، دفاعی، معاشی اور عوامی روابط کا مجموعہ ہے۔