برطانیہ نے امریکا کی درخواست پر غزہ امن منصوبے کی نگرانی کے لیے اسرائیل میں فوجی تعینات کیے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا اور امن عمل کی موثر نگرانی کرنا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، اس تعیناتی میں ایک سینئر برطانوی فوجی افسر اور محدود تعداد میں فوجی شامل ہیں، جنہیں خصوصی مہارت اور تجربہ حاصل ہے تاکہ وہ خطے میں طویل المدتی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکیں۔برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے پیر کے روز لندن میں کاروباری رہنماؤں سے خطاب کے دوران اس تعیناتی کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ برطانوی فورسز کو اس مشن کے لیے منتخب کیا گیا ہے کیونکہ وہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری مہارت اور تجربہ رکھتی ہیں۔ جان ہیلی کا کہنا تھا کہ ایک اعلیٰ برطانوی افسر کو امریکی کمانڈر کا نائب مقرر کیا گیا ہے، جو ایک سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر کی قیادت کرے گا۔ اس سینٹر میں مصر، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے فوجی بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔ اس مرکز کے ذریعے مختلف ممالک کے فوجی اور سول حکام مل کر خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے کام کریں گے۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی نئی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے ایک ہفتہ قبل یہ بیان دیا تھا کہ ان کا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ وہ اسرائیل میں فوجی بھیجے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اس وقت خطے میں سیاسی اور سفارتی سطح پر امن کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے، اور فوجی تعیناتی اس کا حصہ نہیں ہے۔اس تعیناتی کو بعض تجزیہ کار امن عمل میں برطانیہ کے کردار کی اہمیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ دیگر سیاسی حلقے اسے خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی حکمت عملی کا حصہ بھی سمجھ رہے ہیں۔ خطے کی موجودہ صورتحال میں یہ پیش رفت خطہ میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں کے تناظر میں ایک اہم مرحلہ ہے۔