کینیا میں عوامی دباؤ رنگ لے آیا، ڈیزل کی قیمت کم کرنے کا فیصلہ

کینیا میں عوامی دباؤ رنگ لے آیا، ڈیزل کی قیمت کم کرنے کا فیصلہ

کینیا میں بڑھتی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف عوامی احتجاج کے بعد حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے اہم اعلان کر دیا ہے۔

کینیا کے صدر ویلم روٹو ن نے ٹیلی وژن خطاب میں اعلان کیا کہ حکومت جون اور جولائی کے نئے قیمتوں کے دورانیے میں ڈیزل کی قیمت میں 10 کینین شلنگ کمی کرے گی تاکہ عوام پر بڑھتے معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔حکومتی اعلامیے کے مطابق حالیہ دنوں ملک بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شدید احتجاج دیکھنے میں آیا، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث کئی شہروں میں معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوئے۔رپورٹس کے مطابق مظاہروں کے دوران جھڑپوں اور بدامنی کے واقعات بھی سامنے آئے، جن میں متعدد افراد کے زخمی اور ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ان حالات کے بعد حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا گیا۔

صدر ویلم روٹو نے کہا کہ حکومت ملک میں ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ عوامی ریلیف کیلئے ٹیکس میں رعایت اور سبسڈی کی مد میں اربوں کینین شلنگ خرچ کیے جا چکے ہیں۔ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث دنیا کے کئی ممالک کی طرح کینیا بھی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، جس کے اثرات براہِ راست عوامی ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔