امارات سے فاصلے کیوں؟

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخِ معاصرِمشرقِ وسطی کے افق پراگرنگاہِ عبرت ڈالی جائے تویہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ یہاں سیاست،تیل کی نالیوں سے زیادہ خونِ دل سے لکھی جارہی ہے۔ایران کے خلاف امریکاواسرائیل کی کشیدگی کیسائیجب خلیج کے ساحلوں تک درازہوئے تومتحدہ عرب امارات بھی محض ایک تماشائی نہ رہابلکہ ایک فعال کردارکے طورپرابھرا ۔ مشرقِ وسطی کی سیاست کواگر کسی ایک لفظ میں سمیٹاجائے تویہ وہ غیراعلانیہ جنگ ہے جوایران اوراسرائیل کے درمیان کشیدگی بظاہرسرحدوں سے دورہے،مگر اس کی بازگشت خلیج کے ہر ساحل تک سنائی دیتی ہے۔متحدہ عرب امارات اس کشمکش میں ایک درمیانی مگرفعال کھلاڑی کے طورپر سامنے آیاہے۔
امریکاکے ساتھ عسکری تعاون اوراسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے تہران کے ساتھ اس کے سفارتی فاصلے بڑھادیے۔حالیہ برسوں میں جب امریکی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے ڈرون اورمیزائل حملوں کے الزامات سامنے آئے تویواے ای کی وزارتِ دفاع کے بیانات نے اس خطے کوایک بارپھربارودکی بوسے بھردیا۔جب امریکی حملوں کے بعدایران کی جانب سے ڈرون اورمیزائل حملوں کے الزامات سامنے آئے تویہ واضح ہواکہ اب خلیج صرف تیل کی نہیں بلکہ سلامتی کی جغرافیائی لکیربھی بن چکی ہے۔یہ صورتِ حال محض عسکری تناؤنہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی وسیاسی کشمکش کی علامت ہے،جہاں ہرفریق اپنی بقاکودوسرے کی کمزوری میں تلاش کرتاہے۔ایران اوراسرائیل کی اس پراکسی جنگ میں امارات کاکردارایک ایسے توازن کی کوشش معلوم ہوتاہے جو کبھی ایک طرف جھک جاتاہے اورکبھی دوسری طرف۔یہ صورتحال محض دفاعی ردِعمل نہیں بلکہ اس خطے میںطاقت کی نئی تعریف ہے،جہاں ہرریاست اپنی بقاکوعسکری اتحادوں کے ذریعے محفوظ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
جب متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کے اعلان کی طرف قدم بڑھایاتویہ محض ایک معاشی تکنیکی اوراقتصادی فیصلہ نہ تھا بلکہ ایک فکری انحراف کی علامت اورایک علامتی سیاسی بیان تھا۔اس فیصلے کے پسِ پردہ وہ نئی علاقائی حکمتِ عملی کارفرماہے جو خلیجی ریاستوں کے روایتی اتحادسے ہٹ کرایک خودمختارراستہ تلاش کررہی ہے۔متحدہ عرب امارات دراصل یہ پیغام دے رہاہے کہ وہ اب صرف تیل پیداکرنے والی ریاست نہیں رہناچاہتابلکہ توانائی کی عالمی پالیسی سازقوت بنناچاہتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں ریاستیں نہ صرف اپنی شناخت بدلنے لگتی ہیں،وہاں ریاستیں محض تیل کی قیمتوں کی تابع بھی نہیں رہتیں بلکہ عالمی سیاست کے پیچیدہ جال میں اپنی جگہ متعین کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔تیل سے وابستگی دراصل ایک پرانی شناخت تھی،جبکہ نئی سمت تنوع پرمبنی معیشت اورخودمختارسفارت کاری کی طرف ہے۔امارات کایہ قدم گویاایک نئے دورکی تمہید ہے جس میں اتحادکی تعریف دوبارہ لکھی جارہی ہے۔
جب اماراتی سرزمین پرمصری فضائیہ کی موجودگی کی خبریں جب سامنے آئیں تومشرقِ وسطی کے سیاسی مبصرین کیلئے یہ ایک چونکادینے والی اہم پیش رفت تھی۔شیخ محمدبن زایدکا مصری صدرکے ہمراہ لڑاکاطیاروں کے اسکواڈرن کادورہ محض ایک عسکری مشق نہیں بلکہ ایک گہرااسٹریٹجک اشارہ ہے۔گویایہ قدم دراصل دوریاستوں کے درمیان عسکری ہم آہنگی کامظہرہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ اشتراک دراصل دوقدیم عرب ریاستوں کے درمیان ایک نئی دفاعی ہم آہنگی کی علامت ہے،جہاں فضائی طاقت کوخطے کی سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہوچکی ہے یامحض دفاعی اشتراک ہے یاخطے میں طاقت کے نئے توازن کی تشکیل؟یہی وہ زمانہ ہے جب فضائیہ صرف دفاع نہیں بلکہ سیاسی پیغام رسانی کاذریعہ بن چکی ہے۔اسی تناظرمیں پاکستان کی فضائیہ کاسعودی عرب میں کرداربھی ایک وسیع ترعسکری اتحادکی طرف اشارہ کرتاہے،جہاں فضائی طاقتیں سیاسی بیانئے کاحصہ بن چکی ہیں۔
آخروہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے متحدہ عرب امارات اوردیگرخلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات کوپیچیدہ بنادیا؟یہ سوال محض سفارتی نہیں بلکہ تہذیبی اورنظریاتی بھی ہے۔خلیج کی سیاست اب ایک سیدھی لکیرنہیں رہی بلکہ ایک پیچیدہ جال بن چکی ہے جہاں ہر دھاگہ دوسرے سے الجھاہواہے۔خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کوروایتی برادرانہ اتحادکہنا اب ایک سادہ تعبیرمعلوم ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہاں ہرتعلق مفادات کے ترازوپرتولاجاتاہے۔سوال یہ نہیں کہ تعلقات کیوں خراب ہوئے،بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ کب تک بہتررہ سکتے ہیں؟کیونکہ خلیج کی سیاست میں مفادہمیشہ جذبات پرغالب رہاہے۔
متحدہ عرب امارات کی آبادیاتی ساخت ایک عجیب وغریب سماجی تصویرپیش کرتی ہے۔یواے ای کی آبادی ایک غیرمعمولی سماجی تجربہ ہے۔ایک کروڑدس لاکھ افرادمیں سے نوے فیصدغیرملکی ہونااسے دنیاکے منفردممالک میں شامل کرتاہے۔یہ وہ معاشرہ ہے جو تارکین وطن کے کندھوں پرکھڑاہے،جہاں  ہندوستانی،پاکستانی،بنگلہ دیشی اوردیگردرجنوں ممالک کے محنت کش صرف مزدورنہیں بلکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہ دراصل ایک ایسامعاشرہ ہے جومقامی قیادت اورعالمی محنت کے امتزاج پرقائم ہے۔ یہاں مردوں کی اکثریت اورخواتین کی کم تعدادایک ایسے سماجی توازن کی نشاندہی کرتی ہے جومحض اعدادوشمارنہیں بلکہ ایک انسانی کہانی ہے ،تنہائی،محنت اورہجرت کی کہانی۔یہ سماج ایک خاموش سوال اٹھاتاہے:کیاریاست کی شناخت زمین سے ہوتی ہے یاآبادی سے؟
یواے ای کی معیشت بظاہرمضبوط ہے اوراس کی معیشت کاحجم504ارب ڈالرہے،اورفی کس آمدنی اسے دنیاکے امیرترین ممالک میں شامل کرتی ہے،مگراس کی بنیادایک ایسے وسائل پرہے جومحدود ہے۔یہ خوشحالی تیل کے اس انبارپرقائم ہے جووقت کے ساتھ ساتھ سیاسی ہتھیار بھی بن جاتی ہے۔روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی پیداواراس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ معیشت اورسیاست یہاں ایک ہی دریاکے دوکنارے ہیں۔تیل نے اسے ایسی دولت عطاکی ہے جس نے اسے عالمی سیاست کاحصہ بھی بنادیا۔مگریہ ایک ایسی دولت ہے جوتحفظ بھی چاہتی ہے اورطاقت بھی۔
2020میں اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدوں پردستخط نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک زلزلہ برپاکیا۔یہ معاہدے بظاہرامن کی طرف قدم تھے مگرحقیقت میں ایک نئی سفارتی صف بندی کاآغازتھے۔یادرہے کہ ابراہیمی معاہدے صرف سفارتی دستاویزنہیں بلکہ مشرقِ وسطی کی سیاسی تاریخ کانقشِ ثانی ہیں۔یہ معاہدے اس بات کااعلان تھے کہ اب دشمنی اوردوستی کی تعریفیں مذہبی یانظریاتی نہیں رہیں بلکہ معاشی اوراسٹریٹجک ہوچکی ہیں۔مسلم دنیامیں متنازعہ ابراہیمی معاہدے کے بعدتجارتی حجم میں تیزی سے اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشی مفادات نظریاتی اختلافات پرغالب آرہے ہیں۔
غزہ کی جنگ کے دوران امارات کامؤقف ایک دودھاری تلوارکی مانندتھاامارات کایہی انتہائی غیرمناسب رویہ جدیدسفارت کاری کی پیچیدگیوں کوظاہرکرتاہے۔ایک طرف مذمت،اورانسانی ہمدردی کے بیانات،دوسری طرف تجارتی تعلقات کاتسلسل ،یہی وہ تضادہے جو آج کی عالمی سیاست کی حقیقت ہے۔یہ وہ تضادہے جوجدید سفارت کاری کی پہچان بن چکاہے۔
قطرکابائیکاٹ دراصل خلیجی اتحادکے اندرموجودنظریاتی اختلافات کاعملی اظہارتھا۔ایران اوراخوان المسلمون کے حوالے سے اختلافات نے اس بحران کوجنم دیا۔دہشتگردی اور ایران سے تعلقات کے الزامات نے اس بحران کوجنم دیا،جوکئی برس تک جاری رہا۔ایران اور امارات کے درمیان تین جزیروں کاتنازع محض زمینی نہیں بلکہ اسٹریٹجک ہے۔یہ جزائرمحض زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ کے محافظ ہیں کیونکہ یہ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے کے قریب واقع ہیں۔ان پراختلاف دراصل عالمی تجارت پر کنٹرول کی جنگ ہے۔یہ ایک دلچسپ امراورتاریخی تضادہے کہ ایران اورامارات ایک دوسرے کے بڑے تجارتی شراکت داربھی ہیں اورسیاسی حریف بھی۔یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اورمعیشت ایک دوسرے کوردبھی کرتے ہیں اورقبول بھی،یعنی دشمنی اورتجارت ایک ہی میزپربیٹھے نظرآتے ہیں۔(جاری ہے)