وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے گل پلازا میں جاری ریسکیو آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے افسوسناک واقعہ پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ انتہائی دردناک اور افسوسناک ہے، جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، اور ہر پاکستانی غمزدہ ہے۔شرجیل میمن کے مطابق، اس سانحے میں کوئی انسانی جان کی قیمت نہیں لگ سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو ملبے سے نکال کر لواحقین کے حوالے کیا جائے گا اور شناخت کا عمل جاری ہے، جس کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعے میں 86 افراد لاپتہ تھے، جن میں سے 2 کا پتہ چل چکا ہے، اور باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام سے ملاقات کی ہے اور حکومت کسی اکیلے کو نہیں چھوڑے گی۔ ہر لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
آگ بجھانے کے دوران ایک فائر فائٹر شہید ہوا، اور حکومت اس کے ورثاء کے غم میں شریک ہے۔شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات کے بغیر کچھ کہنا قبل از وقت ہے، اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ گل پلازا کو نوٹس ملا تھا یا نہیں۔ اگر کسی کوتاہی کا انکشاف ہوا، تو حکومت فوری کارروائی کرے گی۔ انہوں نے تاجر برادری کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پورے پاکستان میں 90 فیصد عمارتیں پرانی ہیں، جن میں ایمرجنسی ایگزٹ کا نظام موجود نہیں، جبکہ نئی عمارتوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا جا رہا ہے۔