راولپنڈی کی مقامی عدالت نے ٹک ٹاکر ایمان فاطمہ کے بال کاٹنے کے مقدمے میں دو ملزمان، مسمات ثناء اور جابر خان، کی عبوری ضمانتیں مسترد کر دیں۔
عدالت میں سماعت کے دوران وکیل صفائی نے استدعا کی کہ دونوں ملزمان کی ہائی کورٹ سے عبوری ضمانتیں کرائی جائیں گی، مگر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزمان شامل تفتیش ہی نہیں ہوئے اور ان کا بے گناہ ہونا ثابت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی کے بال جبری کاٹے گئے ہیں اور وہ ڈر کے مارے سامنے نہیں آ رہی، اس لیے یہ جرم معمولی قابل ضمانت نہیں ہے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اکرام الحق چودہری نے ملزمان کی عبوری ضمانتیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی کے بال کاٹنا سنگین واقعہ ہے اور عبوری ضمانت نہیں دی جا سکتی، اس لیے دونوں ملزمان کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔ تاہم، ملزمان عدالت کے فیصلے سے چند منٹ قبل کمرہ عدالت سے نکل گئے اور واپس نہیں آئے۔یاد رہے کہ 25 نومبر کو تھانہ نصیر آباد نے ایمان فاطمہ کے بال کاٹنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد یہ مقدمہ درج کیا تھا۔