ایسے دستور کو میں نہیں مانتا

 ندیم ملک
دستور کسی بھی ریاست کا بنیادی عمرانی معاہدہ ہوتا ہے یہ عوام اور ریاست کے درمیان وہ عہد ہے جس کے تحت شہری اپنی بعض آزادیوں اور اختیارات کو ریاست کے سپرد کرتے ہیں اور بدلے میں ریاست ان کے جان و مال، عزت، آزادی، انصاف اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مہذب ریاستیں اپنے دستور کو محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر کا آئینہ سمجھتی ہیں۔ مگر جب یہی دستور چند مخصوص طبقات کے تحفظ کا ضامن بن جائے، جب اس کی شقیں طاقت کے ایوانوں میں من پسند انداز سے استعمال ہوں، اور جب عام آدمی کے لیے یہ محض کتابوں تک محدود ہو جائے تو پھر یہ سوال اٹھانا کوئی بغاوت نہیں بلکہ آئینی حق بن جاتا ہے کہ کیا یہ واقعی عوام کا دستور ہے؟
پاکستان کی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں دستور کو ہمیشہ تقدیس کا لبادہ اوڑھا کر مصلحتوں کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ آئین کی بالادستی کے نعرے ہر سیاسی جماعت کے منشور میں شامل رہے، ہر انتخابی مہم میں گونجتے رہے، مگر اقتدار میں آتے ہی یہی نعرے اقتدار کے تحفظ، اتحادی سیاست اور طاقت کے توازن کے نیچے دب جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دستور ایک زندہ دستاویز بننے کے بجائے ایک علامتی کتاب بن کر رہ گیا جسے حسبِ ضرورت کھولا اور بند کیا جاتا ہے
دستور کہتا ہے کہ ریاست کے تمام شہری برابر ہیں، مگر عملی سیاست میں یہ برابری کہیں نظر نہیں آتی۔ طاقتور سیاسی خاندانوں، سرمایہ دار طبقے اور بااثر حلقوں کے لیے قانون نرم اور لچک دار ہو جاتا ہے، جبکہ غریب، کمزور اور عام شہری کے لیے یہی قانون آہنی شکنجہ بن جاتا ہے۔ انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر بندھی پٹی اکثر غریب کے سامنے سرک جاتی ہے اور طاقتور کے سامنے مضبوطی سے بند رہتی ہے
اگر دستور واقعی قابلِ قبول اور نافذ العمل ہوتا تو آج ایک عام شہری کو بنیادی سہولیات کے لیے دربدر ٹھوکریں نہ کھانا پڑتیں۔ تعلیم، صحت اور روزگار ریاستی ذمہ داری ہوتے، نہ کہ خوش نصیبی۔ بجلی، گیس اور پانی جیسے بنیادی حقوق سیاسی سفارش یا رعایت کے محتاج نہ ہوتے۔ دستور واضح طور پر ریاست کو فلاحی ذمہ داریاں سونپتا ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ریاستی پالیسیوں میں عام آدمی آخری ترجیح بنتا جا رہا ہے
ریاست کے ایک اہم ستون یعنی بیوروکریسی کا کردار بھی اس تناظر میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بیوروکریسی کو ریاست اور عوام کے درمیان پل کہا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ پل اکثر طاقت کے مراکز کے زیرِ اثر دکھائی دیتا ہے۔ عوامی خدمت، قانون کی عملداری اور غیر جانبداری کے بجائے فائلوں کی گردش، اختیارات کا خوف اور بالا دستی کی سوچ غالب ہے۔ عام شہری کے لیے سرکاری دفتر آج بھی سہولت کے بجائے خوف کی علامت ہے۔ اگر بیوروکریسی آئین کی روح کے مطابق خود کو عوام کی خادم سمجھ لے تو ریاست اور شہری کے درمیان آدھی خلیج خود بخود ختم ہو سکتی ہے
یہ دستور آزادیِ اظہار کی ضمانت دیتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ آزادی کہاں ہے؟ صحافی دباؤ میں ہیں، قلم کار خوف میں مبتلا ہیں، سچ بولنے والا مشکوک اور سوال اٹھانے والا غدار قرار پاتا ہے۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے ریاست دشمنی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ جمہوری ریاستیں سوال سے مضبوط ہوتی ہیں، کمزور نہیں۔ اگر دستور واقعی زندہ ہوتا تو تنقید کو دشمنی نہ سمجھا جاتا اور اختلاف کو قومی سلامتی کے خلاف سازش نہ کہا جاتا
ایسے دستور کو ماننے کا تقاضا کیسے کیا جا سکتا ہے جسے ماضی میں بارہا معطل کیا گیا، توڑا گیا، اور ہر بار کسی نہ کسی ‘‘قومی مفاد’’ کے نام پر اس کی روح کو زخمی کیا گیا؟ سیاسی قیادت نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے آئینی اصولوں پر سمجھوتے کیے اور اس کا خمیازہ عوام نے عدم استحکام، بے اعتمادی اور بحرانوں کی صورت میں بھگتا
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دستور میں درج حقوق اور زمینی حقائق کے درمیان ایک وسیع خلیج موجود ہے جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک طرف آئین مثالی ریاست کا تصور پیش کرتا ہے، دوسری طرف عوام کی زندگی مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور ناانصافیوں سے بھری پڑی ہے۔ جب قانون کتابوں تک محدود ہو جائے اور انصاف صرف تقاریر اور پریس کانفرنسوں میں زندہ رہے تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا فطری امر ہے
‘‘ایسے دستور کو میں نہیں مانتا’’ دراصل دستور سے انکار نہیں بلکہ ریاست کو اس کی آئینی ذمہ داری یاد دلانے کی ایک پکار ہے۔ یہ جملہ بغاوت نہیں بلکہ اصلاح کی آواز ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہری کو خوف سے نجات دے، انصاف فراہم کرے، مساوات کو یقینی بنائے اور آئین کو طاقت کا ہتھیار نہیں بلکہ عوامی تحفظ کا ذریعہ بنائے
دستور محض حلف اٹھانے، تقاریر کرنے یا قراردادیں منظور کرنے سے زندہ نہیں ہوتا۔ آئین تب زندہ ہوتا ہے جب عدالتوں میں انصاف بکتا نہ ہو، جب تھانوں میں شہری کی عزت محفوظ ہو، جب سرکاری دفاتر عوام کے لیے سہولت مراکز بنیں، اور جب حکمران اور ادارے خود کو قانون کے تابع سمجھیں۔
اگر ریاست واقعی اپنی آئینی ذمہ داری نبھائے، اگر سیاسی قیادت اور بیوروکریسی ذاتی مفادات سے بالا ہو کر عوام کو مرکزِ نگاہ بنائیں، تو پھر کسی کو یہ کہنے کی ضرورت ہی نہ پڑے کہ ‘‘ایسے دستور کو میں نہیں مانتا’