عرفات منہاس ون ڈے کرکٹ میں یہ اعزاز پانے والے تیسرے پاکستانی بن گئے

عرفات منہاس ون ڈے کرکٹ میں یہ اعزاز پانے والے تیسرے پاکستانی بن گئے

راولپنڈی: پاکستان کے نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ون ڈے کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔

 انہوں نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مشکل صورت حال میں نصف سنچری اسکور کی اور پھر اپنی بائیں ہاتھ کی اسپن بولنگ سے 6 وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی فتح میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ پاکستان نے اس میچ میں انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے دی۔عرفات منہاس کی اس کارکردگی کو ان کے ون ڈے کیریئر کی نمایاں کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ نوجوان آل راؤنڈر نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو مشکل مرحلے سے نکالنے اور حریف ٹیم کی بیٹنگ لائن کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بیٹنگ میں مشکل وقت پر ذمہ دارانہ اننگز

میچ کے دوران عرفات منہاس نے اس وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جب پاکستانی ٹیم کو رنز بنانے اور اننگز کو مستحکم کرنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے نصف سنچری اسکور کرکے ٹیم کے مجموعے میں اہم اضافہ کیا۔عرفات منہاس نے حسن نواز کے ساتھ 78 رنز اور فہیم اشرف کے ساتھ 72 رنز کی اہم شراکتیں قائم کیں۔ ان شراکتوں نے پاکستان کو اننگز سنبھالنے اور حریف ٹیم کے سامنے ایک بہتر مجموعہ ترتیب دینے میں مدد فراہم کی۔نوجوان کھلاڑی کی بیٹنگ میں اعتماد اور دباؤ کے دوران رنز بنانے کی صلاحیت نے ان کی آل راؤنڈ افادیت کو نمایاں کیا۔

بولنگ میں انگلینڈ کو مشکلات سے دوچار کردیا

بیٹنگ کے بعد عرفات منہاس نے گیند کے ساتھ بھی غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ ان کی بائیں ہاتھ کی اسپن بولنگ کے سامنے انگلش بلے باز زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکے اور انہوں نے 6 وکٹیں حاصل کرکے انگلینڈ کی بیٹنگ لائن کو شدید نقصان پہنچایا۔ان کی حاصل کردہ اہم وکٹوں میں انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک کی وکٹ بھی شامل تھی۔ ان وکٹوں نے میچ میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم کرنے اور انگلینڈ کو ہدف کے تعاقب میں مشکلات سے دوچار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان نے بالآخر یہ مقابلہ 87 رنز سے اپنے نام کرلیا۔

ون ڈے کیریئر میں دوسری مرتبہ پانچ وکٹیں

عرفات منہاس کے لیے اس میچ کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنے ون ڈے کیریئر میں دوسری مرتبہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت انہیں اپنے ون ڈے کیریئر کے صرف پانچویں میچ میں دوسری مرتبہ پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ اتنے مختصر کیریئر میں یہ اعزاز ان کی کارکردگی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کے بعد منفرد اعزاز

اس کارنامے کے ساتھ عرفات منہاس پاکستان کے ان نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہوگئے جنہوں نے ایک ہی ون ڈے میچ میں نصف سنچری بنانے کے ساتھ پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔اس سے قبل شاہد آفریدی تین مرتبہ جبکہ عبدالرزاق ایک مرتبہ یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ عرفات منہاس کی کارکردگی نے انہیں پاکستان کی آل راؤنڈ کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم مقام دلایا ہے۔

شاہین شاہ آفریدی اور ہیری بروک کی جانب سے تعریف

پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے عرفات منہاس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک مکمل آل راؤنڈر قرار دیا۔ ان کے مطابق بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں اس نوعیت کی کارکردگی ٹیم کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے۔انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے بھی نوجوان پاکستانی کھلاڑی کی کارکردگی کی تعریف کی اور انہیں میچ کا نمایاں ترین کھلاڑی قرار دیا۔

پاکستانی کرکٹ کے لیے روشن امکانات

عرفات منہاس کی اس کارکردگی نے پاکستان کے لیے ایک ایسے نوجوان کھلاڑی کی صلاحیتوں کو نمایاں کیا ہے جو بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں ٹیم کی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ محدود اوورز کی کرکٹ میں ایسے آل راؤنڈرز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو مشکل حالات میں رنز بنانے کے ساتھ اہم وکٹیں بھی حاصل کرسکیں۔