خوف کے پیچھے کون؟

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
پوری جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کوکسی ایک ملک کے ہاتھوں براہِ راست قتل ہونے والوں کی تعدادکہنابھی درست نہیں۔تاریخ کایہی دیانتدارانہ مطالعہ اس دعوے کی تردیدکرتاہے کہ دنیاکی جنگوں اوربربادی کاذمہ داراسلام یامسلمان بحیثیتِ مجموعی ہیں؛ظلم جہاں بھی ہو،اس کی ذمہ داری ثبوت کے ساتھ متعلقہ افراداوراقتدارکے مراکزپرعائدہونی چاہیے،پوری مذہبی آبادی پرنہیں۔
1994کے روانڈامیں توتسیوں کے خلاف نسل کشی میں8لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے؛ہلاک ہونے والوں میں وہ اعتدال پسندہوتوبھی شامل تھے جنہوں نے ظلم کی مخالفت کی ۔یہاں بھی انسانی زندگی کی تباہی کوسمجھنے کیلئے پروپیگنڈے،اقتداراورمنظم تشددکامطالعہ ضروری ہے۔تاریخ ہمیں باربارمتنبہ کرتی ہے کہ جب کسی آبادی کوپہلے خیالی خطرے کے طورپرپیش کیاجائے تواس کے بعدحقیقی ظلم کیلئے زمین ہموارہوسکتی ہے۔مختلف واقعات کوایک جیساقراردینادرست نہیں،مگراس طریق فکرسے خبرداررہناضروری ہے جوانسانوں کو نام اورچہرے کی بجائے خوف کی ایک علامت بنادیتاہے۔بوسنیاکے شہرسربرینیتسامیں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی نسل کشی اوراس پرقائم بین الاقوامی عدالتی ریکارڈبھی یاددلاتاہے کہ یورپ کی جدیدتاریخ میں مسلمان صرف بحث کا موضوع نہیں،ظلم کے شکارانسان بھی رہے ہیں۔ان سانحات کاذکرکسی دوسرے سانحے کی اہمیت گھٹانے کیلئے نہیں، بلکہ اصول کی یاددہانی کیلئیہے:ہرجان کی حرمت یکساں ہے،خواہ مقتول کی عبادت گاہ کانام کچھ بھی ہو۔ 
قرآنِ مجید،سور مائدہ کی آیت32میں،ایک بے گناہ جان کے قتل کوپوری انسانیت کے قتل اورایک جان بچانے کوپوری انسانیت کوبچانے کی مانندبیان کرتاہے۔یہ نہایت بلند اخلاقی معیارہے۔اسے دہراتے ہوئے اتنی دیانت بھی ہونی چاہیے کہ کسی بھی معاشرے کے مسلمان اپنے اعمال کواسی معیارپرپرکھیں۔مذہبی تعلیم کی عظمت اس وقت معتبرگواہی بنتی ہے جب وہ دوسروں کیلئے رحم،امانت اورانصاف کی صورت میں ظاہرہو۔اسلام سے اختلاف رکھنے والے شخص کوسوال اٹھانے کاحق ہے۔وہ مذہبی احکام،تاریخی تعبیرات، تنظیموں کے مطالبات اورسیاسی نظریات پرکھلی بحث کرسکتاہے۔مگرسوال اورالزام میں فرق ہے۔سوال جواب مانگتاہے؛الزام پہلے ہی فیصلہ لکھ کرلاتاہے۔علمی تنقید کسی دعوے کی دلیل کوجانچتی ہے؛تعصب دعوے سے پہلے دعویٰ کرنے والے کانام دیکھتاہے۔یقینااسلامی تعلیم کے مطابق مسلمان معاشروں کے اندربھی مکالمہ ضروری ہے۔مذہبی آزادی کادفاع خواتین کی آواز،نوجوانوں کے سوال،دوسرے مذاہب کے حقوق 
یامذہب سے اختلاف رکھنے والے افرادکی شہری حیثیت کونظراندازکر نے کی اجازت نہیں۔اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کیلئے خصوصی احکام موجودہیں،اگرایک مسلمان شہری اپنے لیے ضمیرکی آزادی چاہتاہے تواسے دوسرے شہری کیلئے بھی یہی برابری کااصول مانناہوگا۔ مساوات ایک ایساچراغ ہے جس کی روشنی اپنی دہلیزپرروک دی جائے تووہ جلدبجھ جاتاہے۔
مضمون میں جن خدشات کاذکرہے،ان کا بہترین جواب یہ نہیں کہ ہرتشویش کوبد نیتی کہہ کرردکردیاجائے۔جہاں تشدد،دھمکی،دھوکایا اداروں کے غلط استعمال کاقابلِ جانچ ثبوت ہو،وہاں آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔جہاں صرف مذہبی قدامت پسندی یاکسی متنازع رائے کا معاملہ ہو،وہاں جمہوری معاشرے کواختلاف برداشت کرنے کی اپنی صلاحیت دکھانی چاہیے۔قانون کی لکیرمبہم ہوتوکمزورشہری پہلے اس کی زدمیں آتاہے۔اس لیے قانون کوواضح،متناسب اورسب پریکساں لاگوہوناچاہیے۔سیاست میں خوف ایک فوری نفع دینے والی جنس ہے۔معاشی دشواری،رہائش کی قلت یاعوامی خدمات پردباکے پیچیدہ اسباب سمجھانے میں محنت لگتی ہے؛کسی قابلِ شناخت اقلیت کوان سب کی تصویربنادیناآسان ہوتاہے۔ایک نعرہ اعدادکی جگہ لے لیتاہے،ایک اشتعال انگیز تصویرپورے محلے کی زندگی پرغالب آجاتی ہے،اورووٹرکے سامنے مسئلے کی بجائے ایک فرضی چہرہ رکھ دیاجاتاہے۔
یہ ہرسیاسی اختلاف کے بارے میں فیصلہ نہیں۔ہجرت کی رفتار،رہائش،ملازمت،تعلیم اورمعاشرتی ہم آہنگی پرسنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ مقامی آبادیوں کی مشکلات کومحض تعصب کہہ کرٹالابھی نہیں جاسکتا۔مگردرست بحث تبھی ممکن ہے جب مسئلے کانام ٹھیک رکھا جائے۔رہائش کی پالیسی کی ناکامی کاجواب کسی نمازی سے نہیں مانگاجاسکتا؛کسی فردکے جرم کی جواب دہی پوری نسل یامذہب پر نہیں ڈالی جاسکتی۔
ابلاغِ عامہ کی ذمہ داری یہاں اوربڑھ جاتی ہے۔صحافت کافرض خطرے کوچھپانانہیں؛اس کی حد،ثبوت اورسیاق واضح کرناہے۔اگرکسی رپورٹ میں چنددرجن افرادسے منسوب تنظیمی سرگرمیوں کاذکرہواوراس کے اردگردلاکھوں عام مسلمانوں کی زندگی بھی بیان کی جائے توقاری کودونوں کے درمیان واضح فاصلہ دکھائی دیناچاہیے۔ورنہ اعدادکی صحت کے باوجودمجموعی تاثرگمراہ کن ہوسکتا ہے۔ الفاظ کاانتخاب محض اسلوب کامعاملہ نہیں؛وہ اس بات پراثراندازہوتاہے کہ ایک طالب علم اپنے ہم جماعت کوکیسے دیکھے گااورایک ہمسایہ اپنے ہمسائے کے دروازے پرکس احساس سے دستک دے گا۔
برطانیہ کی سرکاری رہنمائی بھی مسلمانوں کے خلاف دشمنی اورمذہبی عقائدپرجائزتنقیدمیں فرق کرتی ہے۔اس فرق کی حفاظت سب کے حق میں ہے۔اس سے مسلمان شہری نفرت اورہراسانی کے خلاف تحفظ مانگ سکتے ہیں،اوردوسرے شہری مذہب یاسیاست سے متعلق اپنی رائے آزادی سے بیان کرسکتے ہیں۔آزادمعاشرے میں دونوں حقوق کوسنبھالنے کیلئے نعرے سے زیادہ باریک بینی درکارہوتی ہے۔ یورپ کامسلمان کوئی ایک چہرہ نہیں۔وہ مختلف زبانیں بولتاہے،مختلف تاریخی تجربے رکھتاہے،اپنے مذہب کوبھی مختلف طریقوں سے سمجھتاہے۔کوئی ابھی ہجرت کرکے آیاہے؛کوئی اسی شہرمیں پیداہواجہاں اس کے والدین اوران کے والدین رہے۔اس تنوع کومٹاکرمسلمان کاایک فرضی مجسمہ تراشناپہلے علم کے ساتھ ناانصافی ہے، پھرلوگوں کے ساتھ۔
اس کے جواب میں مسلمانوں کوبھی اپنے گرددیوار کھڑی کرنے کی ضرورت نہیں۔محلے کی انجمن،اسکول،اسپتال،مقامی حکومت اور روزمرہ 
میل جول وہ مقامات ہیں جہاں اجنبیت کادھندلکاچھٹتاہے۔مکالمہ اس وقت بامعنی ہوتاہے جب اس میں مشکل سوالوں کی گنجائش ہو،مگرہرشریک کوپہلے سے مجرم نہ سمجھاجائے۔ایک طرف حقوق کی پاسبانی ہو، دوسری طرف شہری ذمہ داری کی ادائیگی؛دونوں ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں۔
ہمارے عہدکااصل امتحان شایدیہی ہے:کیاہم خطرے کی تحقیق کرتے ہوئے انصاف کوسلامت رکھ سکتے ہیں؟کیاہم مذہبی آزادی کی حفاظت کرتے ہوئے تشدداورجبرکی بے لاگ مخالفت کرسکتے ہیں؟کیاہم ماضی کی مشترک محنت کویادرکھتے ہوئے آج کے حقیقی مسائل پرکھل کرگفتگوکرسکتے ہیں؟ان سوالوں کاجواب کسی ایک اخبار،جماعت یابرادری کے پاس مکمل نہیں۔اسے معاشرے نے مل کر اپنے طرزِعمل میں لکھناہے۔
برطانیہ کی ملوں میں کام کرنے والے ہاتھ،بیمارکی چارپائی کے پاس کھڑے صحت کے کارکن،اسکول جاتے بچے،عبادت کیلئے نکلتے خاندان اورقانون کی پاسداری کرتے شہری یہ سب اس سرزمین کی زندہ تصویرکاحصہ ہیں۔اس تصویرمیں اختلاف بھی ہے،کمزوری بھی،امیدبھی؛مگراسے ایک فرضی خطرے کے سیاہ رنگ سے ڈھانپ دینانہ تاریخ سے وفاہے نہ مستقبل سے۔
اندیشے کودلیل کے سامنے لانادانش مندی ہے۔اندیشے کوسیاست کاہتھیاربناکرانسانوں پرتان دینادانش مندی نہیں۔پردے چاہے لباس کے ہوں یاہماری نگاہ پرپڑے ہوئے تعصب کے،انصاف کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم ان کے پارموجود انسان ک

ودیکھیں۔