تاریخی قرار دیا جانے والا بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد بھارتی ناکامی کے زمرے میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ "کچھ بھی نہیں بدلا، بھارت اب بھی ٹیرف عائد کر رہا ہے، جبکہ ہم کوئی ٹیرف نہیں لگا رہے۔" صدر ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے کا فائدہ صرف امریکہ کو ہوگا، اور بھارت ہی بھاری مالی بوجھ اٹھائے گا۔واضح رہے کہ اس معاہدے کا اعلان 2 فروری 2026 کو صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ اس اعلان کے وقت بھارت میں اور کچھ بین الاقوامی حلقوں میں اسے تاریخی کامیابی قرار دیا گیا اور جشن منایا گیا تھا، مگر صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے بھارتی سفارتی بیانیے کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔
صدر ٹرمپ کی سابقہ حکمت عملی میں بھارت پر اقتصادی دباؤ اور سخت شرائط شامل رہی ہیں:
مئی 2025 میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر آئی فونز امریکہ میں تیار نہ ہوں، تو بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
جولائی 2025 میں بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا، جس کے بعد بھارت کی تجارتی رکاوٹیں دنیا میں سب سے بلند قرار پائی۔
اگست 2025 میں روسی تیل کی خریداری پر اضافی 25 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا اور بھارت کو مردہ معیشت قرار دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان بھارت کے لیے ایک واضح نشاندہی ہے کہ اگرچہ تجارتی معاہدے کے بعد بظاہر کسی “کامیابی” کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مالی بوجھ اور ٹیرف کا بوجھ بھارت ہی اٹھا رہا ہے۔ اس پس منظر میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو کامیابی قرار دینا فریب یا خود فریبی کے مترادف ہے۔یہ صورتحال بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں اقتصادی اور تجارتی عدم توازن کو اجاگر کرتی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکمت عملی کو اب عالمی سطح پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔