ہم اپنے قومی ہیروز کی قدر نہیں کرتے۔ تحریک پاکستان ہو، پاک آرمی ہو، کھیل کا میدان ہو یا کوئی بھی شعبہ۔ ہم اپنے قومی ہیروز کو رسمی خراج تحسین تو پیش کرتے ہیں مگر انکی تعلیمات اور تجربات سے عملی طور پر استفادہ نہیں کرتے۔
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شاعری کو پاکستان ہی نہیں ہندوستان، ترکی، ایران سمیت پوری دنیا میں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔مگر آج ہم اقبال کی تعلیمات سے استفادہ کر کے ایک ایک منظم اور عظیم قوم نہیں بن رہے۔ ہمیں اقبال کے افکار کی قدر کر کے ایک سچا پکا مومن اور مسلم بن کر اس زندگی کے مقصد کو پورا کرنا چاہئے۔
علماء اقبال کی شاعری کو قرآن کی تفسیر بھی قرار دیتے ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کو ایک امت بننے کا درس دیا۔ آپ نے کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کو ایک قوت بننے کا پیغام دیا۔
" ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک تا کاشغر۔
آپ بے سکھایا کہ اللہ اور اس کے رسول ? کی اطاعت میں ہی کامیابی ہے اور نبی کریم سے وفا ہی اللہ کی رضا ہے۔
"کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں،
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں".
قرآن وحدیث کی اردو اور فارسی میں تشریح شاعری کی زبان میں اقبال سے بہتر کوئی بھی نہ کر سکا۔
آپ نے فرمایا کہ جو تعلیم انسان کو اللہ سے دور کرے وہ فتنہ ہے۔ آپ نے بتایا کہ وہ تلوار اور نعرہ تکبیر جو حق کیلئے نہ اٹھے وہ بھی فتنہ ہے۔
آپ نے مسلمان نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ کوشش اور تدبیر کریں تو اللہ پاک بھی انکی مدد کرے گا۔
آپ نے سکھایا کہ اگر جنگ بدر کے صحابہ والا جزبہ آج بھی پیدا کریں تو آج بھی اللہ غیبی مدد کیلئے فرشتے اتار سکتا ہے۔
آپ نے کہا کہ آج ہم قرآن سے دور ہو کر زلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔
اقبال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے گن کر ایک کروڑ مرتبہ درود شریف پڑھا۔
آپ قرآن کی تلاوت کرتے تو انسؤں سے قرآن کے ورک تر ہو جاتے۔ آپ نے قرآن کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا اور پھر علم کے اس سمندر کو اپنی شاعری میں سمو دیا۔
آپ نے صرف شاعری کے ذریعے ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی اسلام اور مسلمانوں کی بہت خدمت کی۔
عظیم مسلم مفکر، شاعر اور فلسفی تھے، جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا اور علیحدہ وطن کا تصور دیا۔
آپکو "شاعر مشرق" اور "حکیم الامت" کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے، جبکہ ان کی شاعری اور فلسفہ نے امت مسلمہ میں بیداری اور خودی کا جذبہ پیدا کیا۔ اقبال بطور عظیم مسلم مفکر دنیا میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔
تصورِ خودی کے ذریعیاقبال نے انسان کو اپنی صلاحیتیں پہچاننے اور خودی (Selfhood) کو بیدار کرنے کا درس دیا، تاکہ وہ اللہ کا نائب بن سکے۔
وہ پوری امت مسلمہ کے رہنما تھے اور مسلمانوں کو فرقہ بندی سے بالاتر ہو کر متحد ہونے کا پیغام دیا۔
آج ہمارے علماء اپنے خطبوں اور تقریروں میں آیات و احادیث کے ساتھ اقبال کے اشعار کا حوالہ دیتے ہیں۔
اقبال کی زندگی مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ آپ نے اعلیٰ تعلیم اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے کیلئے یورپ کی شاہانہ زندگی کو طرق کر کے فقیرانہ اور سادہ زندگی کو چنا۔
آپکی عظیم زندگی، انقلابی شاعری، قران سے لگاؤ، عشق رسول اور مسلمانوں کی بے لوث خدمت کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بجا ہو گا کہ
اقبالیات در حقیقت اسلامیات ہے۔
لہزا ہمیں صرف اقبال ڈے کے موقع پر آپ کے اشعار، نظمیں یاد کر کے اور تقاریر پر اکتفاء کرنے کی بجائے بطور ایک عظیم انسان آپکو فالو کر کے عظیم قوم بننا چاہئے۔