لاہور قلندرز کی بنگلادیش پریمیئر لیگ میں شمولیت میں دلچسپی

لاہور قلندرز کی بنگلادیش پریمیئر لیگ میں شمولیت میں دلچسپی

ابوظبی: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی معروف فرنچائز لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر ثمین رانا نے بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں مستقبل میں سرمایہ کاری اور فرنچائز کے طور پر شمولیت میں دلچسپی ظاہر کردی ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ اگر مناسب کاروباری موقع میسر آیا تو لاہور قلندرز بنگلادیش کی لیگ کا حصہ بننے پر ضرور غور کرے گی۔ثمین رانا نے بنگلادیش کرکٹ سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنگلادیش ان کے دل کے بہت قریب ہے اور وہ طویل عرصے سے کسی نہ کسی حیثیت میں بنگلادیش کرکٹ کے ساتھ کام کرنے کے موقع کی تلاش میں ہیں۔

تمیم اقبال سے ملاقات، فرنچائز کرکٹ پر تبادلہ خیال
ثمین رانا ہفتے کو ابوظبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں بنگلادیش اور زمبابوے کے درمیان ٹرائنگولر سیریز کا میچ دیکھنے پہنچے، جہاں انہوں نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر تمیم اقبال کے ساتھ بھی خاصا وقت گزارا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمین رانا نے بتایا کہ تمیم اقبال کے ساتھ ملاقات میں فرنچائز کرکٹ کے تجربات اور لیگ کے نظام کو بہتر بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش اور پاکستان میں کرکٹ کے لیے غیر معمولی جذبہ پایا جاتا ہے اور دونوں ممالک مل کر بنگلادیش پریمیئر لیگ کو درپیش مشکلات سے نکالنے کے لیے کام کرنے کے مواقع تلاش کرسکتے ہیں۔ثمین رانا نے کہا کہ اگر کوئی ایسا راستہ سامنے آیا جس سے تمام متعلقہ فریقوں کو فائدہ پہنچے تو لاہور قلندرز اس میں بھرپور دلچسپی لے گی۔

بی پی ایل کا مستقبل اور غیر ملکی فرنچائزز کی شمولیت
بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے مالی بے ضابطگیوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے لیگ کے آئندہ ایڈیشن کو ملتوی کردیا ہے۔ بورڈ کے صدر تمیم اقبال بھی مختلف مواقع پر اشارہ دے چکے ہیں کہ مقررہ ضابطوں اور شرائط پر پورا اترنے والی غیر ملکی فرنچائزز کو لیگ میں شمولیت کا موقع دیا جاسکتا ہے۔ایسے میں لاہور قلندرز کی جانب سے دلچسپی کا اظہار بنگلادیش کی فرنچائز کرکٹ کے لیے ایک ممکنہ پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، تاحال لاہور قلندرز کی جانب سے بی پی ایل میں شمولیت یا سرمایہ کاری کے حوالے سے کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پی ایس ایل سمیت مختلف لیگز کا تجربہ
ثمین رانا نے بتایا کہ لاہور قلندرز گزشتہ 11 برس سے پاکستان سپر لیگ سے وابستہ ہے، جبکہ فرنچائز جنوبی افریقا کی گلوبل لیگ اور ٹی ٹین کرکٹ کے مختلف مقابلوں میں بھی حصہ لے چکی ہے۔ان کے مطابق لاہور قلندرز کرکٹ کینیڈا کے ساتھ بھی رابطے میں رہی ہے۔ ان مختلف تجربات کے دوران فرنچائز نے کرکٹ کے انتظامی معاملات، کھلاڑیوں کی ترقی اور لیگ کے نظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ثمین رانا کا کہنا تھا کہ ان تجربات سے حاصل ہونے والی مہارت بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بی پی ایل کے انتظامی اور مالی معاملات کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

بنگلادیشی نوجوان کرکٹرز کو پاکستان میں تربیت دینے کی خواہش
لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے کھلاڑیوں کی تربیت اور بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے فروغ کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور قلندرز نے حال ہی میں گیانا کی وزارتِ نوجوانان و ثقافت کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت گیانا کے کھلاڑی تربیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان آئیں گے۔

ان کے مطابق اس سے قبل زمبابوے کے آٹھ کھلاڑی بھی اسلام آباد کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں چھ ہفتے گزار چکے ہیں، جہاں انہوں نے تربیت حاصل کی۔

ثمین رانا نے کہا کہ لاہور قلندرز چاہتی ہے کہ بنگلادیش کے نوجوان کرکٹرز بھی پاکستان آئیں اور جدید تربیتی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ ان کے بقول، دونوں ممالک کے درمیان تجربات کا تبادلہ نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھارنے اور خطے میں کرکٹ کو مزید فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔