تھرپارکر (خصوصی رپورٹ)تھر میں غذائی قلت، مختلف بیماریوں کے سبب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف دیہات کے 6 بچے دم توڑ گئے۔ ان میں گاؤں پبی جی تر کے رہائشی ہریش کا بچہ، گاؤں سوگی جی تر کے رہائشی اشوک کا بچہ، گاؤں میوو رند کے رہائشی علی نواز کا بچہ، گاؤں جوڑوو کے رہائشی عبدالشکور کا بچہ، گاؤں تھاریو ہالیپوٹو کے رہائشی معشوق کا بچہ اور چیلہار کے رہائشی جھامن کا بچہ شامل ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق تمام 6 بچے سول اسپتال مٹھی میں زیرِ علاج تھے، جہاں وہ دم توڑ گئے۔ دوسری جانب ضلع میں خشک سالی کے باعث لوگوں کی اپنے مویشیوں کے ہمراہ بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، پانی اور چارے کی شدید قلت کے باعث بڑے پیمانے پر مویشیوں کی ہلاکتوں کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی اب تک کوئی خاطر خواہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔ ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیرانی نے تمام تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا سروے کرنے کے لیے خط لکھ کر اپنی ذمہ داری پوری کرلی ہے، تاہم متاثرہ باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب تھر سٹیزن فورم سمیت تھر کی مختلف سماجی اور عوامی تنظیموں نے خشک سالی کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تھرپارکر کو فوری طور پر آفت زدہ علاقہ قرار دے کر ہنگامی بنیادوں پر امدادی سرگرمیاں شروع کی جائیں، تاکہ متاثرہ خاندانوں اور ان کے مویشیوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔