انتہا پسند ہندوئوں نے مسلمانوں کے کاروبار کو تباہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کا سہارا لے لیا
نئی دہلی (آئی این پی )بھارت میں مودی سرکار کے دور میں مسلمانوں کو امتیازی سلوک، نفرت انگیز مہم اور معاشی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ انتہا پسند ہندوئوں نے مسلمانوں کے کاروبار کو تباہ کرنے کے لیے جھوٹے الزامات اور سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کا سہارا لے لیا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق، ہندو انتہا پسند گروہ مسلسل مسلمانوں کے کاروبار اور روزگار کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ مسلم دکانداروں، ہوٹل مالکان اور سبزی فروشوں کے خلاف بے بنیاد دعوے کیے جا رہے ہیں کہ وہ کھانوں میں گائے کا گوشت، پیشاب اور تھوک کی ملاوٹ کرتے ہیں۔ہندو تنظیمیں مسلمانوں کو دکانیں کرائے پر نہ دینے کے مطالبات کر رہی ہیں۔ اترپردیش، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں سبزی فروشوں اور چھوٹے دکانداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔کئی ذبح خانے غیر قانونی قرار دے کر بند کر دیے گئے ہیں، جس سے ہزاروں مسلمان بے روزگار ہو گئے ہیں۔