عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کے حوالے سے ایک اہم پیشگوئی سامنے آئی ہے، جس میں آئندہ چند برسوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سرمایہ کاری بینک JPMorgan Chase کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کے باعث سونے کی قیمتوں میں مستقبل قریب میں بڑی تیزی آ سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ معاشی اور مالیاتی رجحانات برقرار رہتے ہیں تو عالمی مارکیٹ میں سونے کی اوسط قیمت رواں سال کے اختتام تک 6,000 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 2027 کے آخر تک یہ قیمت تقریباً 6,300 ڈالر فی اونس تک جانے کا امکان ہے۔ ماہرین اس تخمینے کو موجودہ سطح کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد اضافے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی ڈالر کی مضبوطی کے باعث سونے کی قیمتوں پر دباؤ رہا، جس کی وجہ سے بعض اوقات قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ تاہم طویل المدتی بنیادوں پر سونا اب بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اثاثہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر جنگی کشیدگی میں کمی آتی ہے اور بڑی معیشتوں کی مالیاتی پالیسیوں میں نرمی آتی ہے تو سرمایہ کار دوبارہ سونے کی جانب متوجہ ہو سکتے ہیں، جس سے طلب میں اضافہ اور قیمتوں میں مزید تیزی پیدا ہونے کا امکان ہے۔اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مقامی مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمتیں نئی ریکارڈ بلند سطحوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیورات کی صنعت، سرمایہ کاری کے رجحانات اور مقامی سونے کی خرید و فروخت پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سونے کی قیمتوں کی سمت کا انحصار عالمی معاشی نمو، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں، امریکی ڈالر کی کارکردگی اور جغرافیائی سیاسی حالات پر ہوگا، اس لیے سرمایہ کاروں کو طویل مدتی فیصلے کرتے وقت محتاط رہنا چاہیے۔