آسٹریلیا کی پاکستانی مدارس کو جدید تکنیکی تعلیم دینے کی پیشکش

آسٹریلیا کی پاکستانی مدارس کو جدید تکنیکی تعلیم دینے کی پیشکش

آسٹریلوی حکومت نے پاکستانی مدارس کو جدید تکنیکی تعلیم فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

 وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین اور آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز کے درمیان اس حوالے سے ملاقات ہوئی، جس میں مذہبی عدم برداشت، دہشت گردی، اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ترقی اور سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اور ملک میں اقلیتوں کو آئین کے تحت تمام سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق حاصل ہیں۔وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ وزارت تعلیم کے تحت 18 ہزار سے زائد مدارس کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے، اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مدارس کے طلبا کو جدید تکنیکی تعلیم دی جائے۔

آسٹریلین ہائی کمشنر نے اس بات کا اظہار کیا کہ آسٹریلوی حکومت پاکستانی مدارس کے طلبا کو جدید تکنیکی تعلیم دینے کے لیے تیار ہے، اور اس ضمن میں پاکستان کی معاونت کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نفرت اور عدم برداشت وہ بنیادی عوامل ہیں جو تشدد اور انتہا پسندی کو بڑھاوا دیتے ہیں، اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ سے معاشرے میں محبت، مساوات، رواداری اور برادشت کو تقویت ملے گی۔نیل ہاکنز نے یونان کشتی حادثے میں پاکستانیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آسٹریلیا میں ہنرمند پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

چوہدری سالک حسین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے خلاف مزید مؤثر اقدامات کر رہا ہے، اور روزگار کے لیے بیرون ملک جانے والوں کو جدید ہنر سکھانے کے لیے پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔