اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اقدامات کو چیلنج کرنے والے جسٹس محسن اختر کیانی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حصول انصاف سے متعلق سوالات پر وہ کیمرے کے سامنے ذاتی رائے نہیں دے سکتے۔
سپریم کورٹ سے روانگی کے وقت صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ کو امید ہے کہ سپریم کورٹ سے سپورٹ ملے گی؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے جواب دیا کہ "ہمارا ہمیشہ عدل و انصاف کے ساتھ قانون پر یقین رہا ہے۔"جب ان سے پوچھا گیا کہ بطور درخواست گزار کیسا محسوس کر رہے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ "بالکل ایسے جیسے عام پاکستانی محسوس کرتے ہیں۔" تاہم صحافی کے یہ سوال کہ کیا عام شہری کو لگے گا کہ ججز بھی انصاف کے لیے اس طرح جا رہے ہیں، پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کوئی جواب نہیں دیا اور کہا کہ "کیمرے کے سامنے ذاتی رائے نہیں ہوتی۔"
ایک اور سوال پر جسٹس نے واضح کیا کہ کیسز کی سماعت مکمل کر کے سپریم کورٹ آئے ہیں۔ وکلاء تنظیم کے ہیڈ ہونے یا وکالت کے معیار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ "اگر میں وکالت کر رہا ہوتا تو پھر الگ بات ہوتی، لیکن اب وکالت کا معیار دیکھنا ہے۔"صحافی نے آخر میں پوچھا کہ کیا وہ چیف جسٹس ڈوگر کے بنائے گئے بینچز کے ججز کے ساتھ بیٹھ رہے ہیں، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ "نہیں، وہ ہمارے ساتھ نہیں بیٹھ رہے ہیں۔"