ڈپریشن

حافظہ قراۃ العین
 ڈیپریشن   جس کو افسردگی بھی   کہا جاتا ہے ایک سنگین ذہنی بیماری ہے  جو مسلسل اداسی، مایوسی، تھکاوٹ، روزمرہ کے معمولات  اور کسی کام میں  کم دلچسپی کے زیر اثر رونما ہوتی ہے۔ ڈپریشن ایک خاموش، مگر تباہ کن طوفان کا نام ہے۔ یہ نہ تو کوئی عام اداسی ہے، نہ وقتی مایوسی، اور نہ ہی ایک ہلکی سی تھکن۔ یہ ایک گہری، اندھیری غار ہے جہاں روشنی کا تصور بھی محال لگتا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں انسان بظاہر جیتا ہے، سانس لیتا ہے، دوسروں سے بات کرتا ہے، کام پر جاتا ہے، لیکن اندر سے خالی، سنّاٹے میں لپٹا، اور بے حس ہوتا چلا جاتا ہے۔
ڈپریشن کے شکار فرد کے چہرے پر  بظاہر سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے۔ وہ مسکراتا ہے، لوگوں میں گھلتا ملتا ہے، مگر دل کے اندر ایسی اداسی کا راج ہوتا ہے جو لفظوں میں  بیان نہیں کی جا سکتی۔ یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو کندھوں پر نظر نہیں آتا، مگر روح کو کچلتا چلا جاتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو انسان روز اپنے ہی دماغ کے خلاف لڑتا ہے، اور اکثر یہ لڑائی خاموشی سے لڑی جاتی ہے یعنی بغیر کسی شور اور بغیر کسی مدد کے۔
ڈپریشن صرف ایک غم کا نام نہیں ہے بلکہ یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کر دیتا ہے، فیصلے لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے، نیند کو چھین لیتا ہے، اور کبھی کبھار زندگی کے مقصد کو بھی بے معنی کر دیتا ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان ہر خوشی سے کٹ سا جاتا ہے، ہنسی مصنوعی لگتی ہے، اور تنہائی دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ محسوس ہونے لگتی ہے۔
معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہ ڈپریشن کو سنجیدہ بیماری تسلیم ہی نہیں کرتے۔ حوصلہ کریں ، مصروف رہیں ، ایسا کچھ بھی نہیں ہے" جیسے جملے اْس شخص کے زخم پر مرہم نہیں بلکہ نمک کا کام کرتے ہیں جو پہلے ہی زندگی کی معنویت سے مایوس ہو چکے  ہوتے ہے۔ روحانی، یا معاشرتی حمایت اپنی جگہ بہت اہم ہے، لیکن جب دماغ ایک کیمیائی توازن کھو بیٹھتا ہے، تو اسے سائنسی اور طبی مدد بھی درکار ہوتی ہے
۔ اگر وقت پر مدد لی جائے تو یہ ٹھیک ہو سکتی ہے۔ تھیراپی، کونسلنگ، محبت بھرا ساتھ، اور بعض اوقات دوا بھی اس اندھیرے کو روشنی میں بدل سکتی ہے۔ کسی کا ہاتھ تھام لینا، کسی کی بات سن لینا، یا صرف یہ جملہ کہنا کہ "میں تمہارے ساتھ ہوں" بعض اوقات زندگی بچا سکتا ہے۔
ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ "ٹھیک نہ ہونا" بھی زندگی کا حصہ ہے۔ ہر وقت مضبوط نظر آنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ کمزوری کو تسلیم کرنا بہادری ہے۔ اور مدد مانگنا بزدلی نہیں، بلکہ ایک سمجھدار انسان کا قدم ہوتا ہے۔
اگر آپ خود اس کیفیت سے گزر رہے ہیں تو جان لیجیے، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا میں لاکھوں لوگ اس سفر سے گزر رہے ہیں، اور بے شمار لوگ اس اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آ چکے ہیں۔ اگر آپ کے اردگرد کوئی شخص خاموش ہے، گم صْم ہے، تو تھوڑا وقت نکال کر اْس کا حال پوچھیں۔ ہو سکتا ہے، وہ خاموشی صرف چپ نہ ہو، ایک پکار ہو۔
ڈپریشن کو چھپانے کی بجائے اسے پہچاننا، سمجھنا، اور اس پر بات کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اور ہر مسئلے کی پہلی سیڑھی اس کا اعتراف کرنا ہوتا ہے۔
زندگی قیمتی ہے، اور امید ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ یاد رکھیں، اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔
ڈیپریشن کی علامات
1.مسلسل اداسی ،مایوسی 
2 . چڑ چڑاپن 
3.شدید تھکاوٹ 
4.نیند کے مسائل 
 5.بھوک میں تبدیلی  وزن کا کم یا بہت زیادہ ہو جانا 
6. خود اعتمادی میں کمی 
7.توجہ مرکوز کرنے میں کمی
8۔سر گرمیوں  اور مشغلوں میں دلچسپی کی کمی 
9 .موت یا خود کشی کے خیالات آ نا   
ڈیپریش کی وجوہات 
جینیاتی عوامل مثلاً  فیملی ہسٹری ،وراثت 
. دماغی کیمیکلز میں تبدیلی
شدید ذہنی دباؤ۔،مالی مسائل یا کوئی  پریشانی 
شراب اور منشیات کا طویل عرصے سے استعمال 
خود اعتمادی کی کمی،یا ہر وقت مایوسی کی عادات 
خواتین میں ہارمونز کی تبدیلیاں 
بہت سی جسمانی بیماریاں مثلاً کینسر،دل کی بیماریاں ،ذیابطیس ،اور سر پیٹ یا جوڑوں میں درد
 علاج "
ڈپریشن کو  شکست دینے کا بہترین طریقہ تھیراپی ، ادویات اور خود کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ ان تینوں چیزوں کے ربط سے ڈپریشن کو با آسانی شکست دی جاسکتی ہے۔ 
تھراپی افراد کو اپنے ڈپریشن کی بنیادی وجوہات کی شناخت اور ان سے نمٹنے میں مدد کرتی ہے، منفی خیالات سے مقابلہ کرنے کی حکمت عملی تیار کرتی ہے،  سی بی ٹی  ڈپریشن کے لئے کی جانے والی  تھراپیز میں سب سے عام  و  موثر  ہے۔  CBT میں، افراد سیکھتے ہیں کہ کس طرح منفی سوچ کے نمونوں اور طرز عمل کو پہچاننا اور پھر اسکو  تبدیل کرنا ہے جو ان کو  ڈپریشن میں مبتلا کر تے ہیں 
ادویات، جیسے اینٹی ڈپریسنٹس، ڈپریشن کو کم کرنے  میں  مددگار ثابت ہوتی  ہیں۔  اینٹی ڈپریسنٹس دماغ میں بعض نیورو ٹرانسمیٹرس کی سطح کو تبدیل کرکے کام کرتے ہیں 
خود کی دیکھ بھال۔  اس میں باقاعدگی سے ورزش کرنا، ذہن سازی یا مراقبہ کی مشق کرنا، کافی نیند لینا، اور ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہونا جو خوشی یا کامیابی کا احساس دلاتی ہیں۔ 
اپنی زندگی کا کا کوئی مقصد بنائیں۔چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کریں۔بھروسے والے بندوں سے دل کی بات چیت کریں۔اپنی روزمرّہ کی روٹین بہتر بنائیں۔ایسے کام جس سے سستی پیدا ہوتی ہے اس کو کم کریں۔جیسے موبائل فون۔ کا استعمال وغیرہ
آخر میں، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ڈپریشن سے بحالی ممکن ہے۔  صحیح علاج اور مدد کے ساتھ اور ایک بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں۔  اس میں وقت اور محنت لگ سکتی ہے، اس لیے  اپنی ذہنی صحت اور تندرستی میں سرمایہ کاری کرئیے اور ایک کامیاب زندگی گزاری?ے
اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں  خوش رہیں۔