سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان آج ہونے والے طے شدہ مذاکرات منسوخ ہو گئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔
سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق برجنسٹاک میں ہونے والے یہ مذاکرات اب شیڈول کے مطابق منعقد نہیں ہوں گے۔ وزارت کے بیان میں کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پس منظر
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سوئٹزرلینڈ روانگی مؤخر کر دی گئی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق نائب صدر آج رات سفر نہیں کر رہے، تاہم امریکا تکنیکی سطح پر مذاکرات کے آغاز کا خواہاں ہے۔
امریکی مؤقف
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر ختم نہیں کر رہا بلکہ “تکنیکی مذاکرات” کے ذریعے رابطے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
صورتحال کی اہمیت
یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے تھے۔ تاہم موجودہ تعطل کے بعد مستقبل کے مذاکراتی شیڈول پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
آئندہ امکانات
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار ہیں، لیکن مذاکرات کی نئی تاریخ یا مقام کے بارے میں کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔