مسرور احمد مسرور
ای او بی آئی بڑھاپے کی مراعات کا قومی ادارہ ہے جس کا نعرہ ہے:بڑھاپے میں ملا اطمینان‘پنشن ملنا ہوا آسان بوڑھوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے 1976 میں حکومت پاکستان نے یہ ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے ذریعے ان لوگوں کو جنھوں نے کسی ادارے میں پندرہ سال ملازمت مکمل کی ہو انھیں 60 سال کی عمر پوری ہونے کے بعد پنشن دینے کا طریقہ کار وضع کیا۔ خواتین کے لیے 55 سال کی عمر رکھی گئی۔ یہ ادارہ جو اس وقت 600 ارب روپوں کے اثاثوں کا مالک ہے، یہ ہر اس ادارے سے ماہانہ Contribution وصول کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے جس ادارے میں دس یا اس سے زیادہ لوگ کام کرتے ہوں لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ یہ ادارہ جو غریب، بوڑھے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم کیا گیا اپنے مقاصد کی کامیابی میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے اور اپنے نعرے کی نفی کرتے ہوئے ’’بڑھاپے میں اطمینان اور پنشن ملنے میں آسانی‘‘ کی حقیقت کو جھٹلا رہا ہے۔ بڑھاپے میں پنشن ملنے کی آسانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ای او بی آئی کی پنشن کا مستحق ایک شخص پچھلے سات سال سے دھکے کھاتا پھر رہا ہے۔ ای او بی آئی کے اعلیٰ حکام کو نظر نہیں آ رہا جب کہ اس نے 15 سال ملازمت بھی کی ہے اس کی تاریخ پیدائش کا بھی کوئی ایشو نہیں ہے کیونکہ اس کے میٹرک سرٹیفکیٹ اور قومی شناختی کارڈ پر درج تاریخ پیدائش ایک ہی ہے اس کے علاوہ ادارے کی ایک سینئر ترین ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی محمد ایوب نے 17 ماہ تک اس کے کیس کی سات سماعتوں کے بعد اس کے حق میں فیصلہ دیا لیکن ایک سال تک اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور پھر اس فیصلے کو مسترد کر دیا گیا جو ایک مستحق پنشنر کے ساتھ زیا د تی کے مترا د ف ہے یہ پنشن ملنے کی آسانی کا مختصر احوال ہے۔ اس کیس کی تفصیل کے لیے الگ سے اس ادارے کی کارکردگی کا دوسرا پہلو بھی دیکھ لیا جائے جس میں ایسا لگتا ہے کہ یہ ادارہ اندھا ہو گیا ہے یا اس ادارے نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے کیوں کہ مستحق پنشنروں کے کیسز تو Resolve کرنے میں سات سال کا عرصہ بھی کم ہے البتہ وہ لوگ جو ای او بی آئی کی پنشن کے سرے سے حق دار ہی نہیں ہیں انھیں آنکھیں بند کرکے لاکھ دو لاکھ نہیں بلکہ اربوں روپے پنشن کی مد میں دیے گئے جس کا انکشاف پبلک اکاو نٹس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5,131 ایسے لوگ ای او بی آئی کی پنشن وصول کر رہے تھے جو کسی طرح بھی پنشن کے حق دار نہ تھے مردوں کے لیے پنشن کا حق 60 سال سے زیادہ عمر رکھنے والے اور عورتوں کے لیے 55 سال سے زیادہ عمر کی خواتین پنشن حاصل کرنے کا اہل بتایا جاتا ہے لیکن اس کے برعکس 5,131 ایسے افراد کو پنشن دی جا رہی تھی جن کی عمریں 60 سال اور 55 سال سے کم تھیں۔ ایک ایسی خاتون کو بھی پنشن ادا کی جاتی رہی جس کی عمر 31 سال ہے۔ غلط طریقے سے جو پنشن ادا کی گئی وہ 2.79 بلین روپے یعنی پونے تین ارب سے بھی زیادہ ہے۔ یہ بہت بڑا بلنڈر ہے، یہاں ای او بی آئی کا اندھا پن واضح نظر آتا ہے۔ اتنی بڑی مالی غلطی کا ذمے دار کون ہے اور اسے کیا سزا دی جاتی ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔ منسٹری آف اوورسیز کو ایک مہینے کا وقت دیا گیا ہے کہ اس تمام معاملے کی تحقیقات کرکے پبلک اکاو نٹس کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔بتایا گیا ہے کہ 8 لاکھ پنشنرز میں 5 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ای او بی آئی کے قوانین کے برخلاف پنشن ادا کی گئی۔ ابھی تو مزید تحقیقات کے بعد پتا چلے گا کہ اس ادارے نے اور کیا کیا گْل کھلائے ہیں۔ ابھی یہ حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ کتنے ہزار لوگ وفات پا چکے ہیں اور انھیں پنشن دی جا رہی ہے۔ ای او بی آئی میں دیگر ایسے معاملات ہیں جہاں غلط انداز سے کام چلایا جا رہا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق ای او بی آئی نے ابھی تک 2.47 بلین روپوں کی وہ رقم بازیاب نہیں کی جو 2,864 اداروں سے Contributionکی مد میں وصول کی جاتی تھی۔ای او بی آئی کے علاقائی دفاتر ایسے اداروں کی رجسٹریشن میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں جنھیں قانون کے مطابق EOBI میں لازماً رجسٹر ہونا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے ای او بی آئی کا ادارہ اپنا قبلہ درست کرے اور مستحق پنشنروں کو قانون اور اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے انھیں ان کا حق دینے میں غیر ضروری طور پر پریشان نہ کیا جائے۔