یہ اس کا اپنا معاملہ ہے

ثمر عباس لنگاہ
"یہ اس کا اپنا معاملہ ہے"۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے اجتماعی شعور پر پڑی وہ گرد ہے جس نے ظلم کو معمول، بے حسی کو روایت اور خاموشی کو دانش مندی بنا دیا ہے۔
"یہ اس کا اپنا معاملہ ہے" کہہ کر ہم نہ صرف اپنی ذمہ داری سے دست بردار ہو جاتے ہیں بلکہ ایک زندہ معاشرے کو بتدریج مردہ ضمیروں کا قبرستان بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ جملہ ہے جو گلی کے نکڑ پر لٹتی عزت کو بھی اجنبی بنا دیتا ہے۔آج کا المیہ یہ ہے کہ ہر روز، ہر ساعت، کہیں نہ کہیں خواتین کی عزت پامال ہورہی ہے۔ کہیں لفظوں کے ذریعے، کہیں نگاہوں کے تیروں سے، کہیں رسم و رواج کے نام پر، تو کہیں طاقت اور اختیار کے نشے میں۔ مگر اس سارے ظلم کے بیچ جو چیز سب سے زیادہ سفاک ہے، وہ ہماری اجتماعی خاموشی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، جانتے ہیں، مگر کندھے اچکا کر کہہ دیتے ہیں "یہ اس کا اپنا معاملہ ہے۔امیر باپ کے کئی بگڑے ہوئے بیٹے اپنی پسندیدہ عورت کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ اور ہم ایسے معاملات میں یوں خاموش ہوتے ہیں کہ جیسے عورت کی عزت اسی کے اختیار میں ہے، بچا سکے تو ٹھیک ورنہ۔۔۔
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عزت فرد کی نہیں، پورے معاشرے کی اجتماعی امانت ہوتی ہے۔ جب ایک عورت کی عزت پامال ہوتی ہے تو دراصل انسانی وقار کی بنیادوں میں دراڑ پڑتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہم اس دراڑ کو دیکھنے کے بجائے آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور خود کو اس گمان میں مبتلا کر لیتے ہیں کہ خاموشی ہمیں محفوظ رکھ لے گی۔ یہ خاموشی، دراصل ظلم کی سب سے وفادار ساتھی ہوتی ہے۔
میں نے ان تمام مسائل کا حل کسی فلسفیانہ کتاب میں نہیں ڈھونڈا، نہ کسی پیچیدہ قانون میں۔ حل نہایت سادہ ہے۔ مگر اس سادگی تک پہنچنے کے لیے دل کا بڑا ہونا ضروری ہے۔ ان مسائل کا حل یہ ہے کہ ہمیں صرف ایک جملے کو اپنے لغتِ عمل سے خارج کرنا ہوگا۔ جملہ یہ کہ "یہ اس کا اپنا معاملہ ہے۔"جس دن ہم نے یہ کہنا چھوڑ دیا، واللہ اسی دن عورت کے گرد بند دائرے ٹوٹنا شروع ہو جائیں گے۔ اگر ہم کسی غیر عورت کے مسئلے کو اپنی بہن کا مسئلہ سمجھیں، اگر کسی اجنبی کی بیٹی میں ہم اپنی بیٹی کا عکس دیکھیں، اگر کسی عورت کی آہ میں ہمیں اپنی ماں کی سسکیاں سنیں۔۔۔ تو یقین مانیے، ظلم کی ہمت خود بخود پست ہو جائے گی۔ کیونکہ مجرم وہاں وار کرتا ہے جہاں اسے معلوم ہو کہ دیکھنے والے تماشائی ہیں ناکہ محافظ۔۔۔
یہ سوچ بدلنے کی جنگ ہے۔ یہ جنگ ہتھیار سے کم اور ضمیر سے زیادہ جیتی جاتی ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ معاشرے میں ہونے والا ہر ظلم، خواہ وہ کسی بھی دروازے کے پیچھے ہو، ہمارا ہی معاملہ ہے۔ جب تک ہم خود کو الگ سمجھتے رہیں گے، تب تک عورت غیر محفوظ رہے گی۔ اور جس دن ہم نے ہر عورت کو اپنی بہن، بیٹی یا ماں سمجھ لیا، اسی دن عزت پر رکھے گئے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔
اب اپنے دل سے کہہ دیں  "یہ اس کا معاملہ نہیں، یہ ہمارا اپنا معاملہ ہے۔"
یہی شعور، ہماری نجات کا پہلا زینہ ہے۔ مگر یاد رکھیں! تبدیلی رات و رات نہیں آتی بلکہ وقت لگتا ہے۔ اللہ نگہبان!!!