اپوزیشن کا مؤقف میڈیا پر غائب، صرف حکومت کی بات دکھائی جا رہی ہے: اسد قیصر

اپوزیشن کا مؤقف میڈیا پر غائب، صرف حکومت کی بات دکھائی جا رہی ہے: اسد قیصر

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے الزام عائد کیا ہے کہ میڈیا پر حکومت کا مؤقف تو مسلسل چلایا جا رہا ہے، مگر اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔

 انہوں نے اس رویے کو جمہوریت کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔اسد قیصر نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بیٹھے ہوئے بہت سے لوگ عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں کر رہے اور اپوزیشن کو جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کے ہمراہ چیف وہپ ملک عامر ڈوگر اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

  انصاف سے محرومی کا الزام
اسد قیصر نے کہا کہ "ہمارے لیڈرز کے کیسز دو سال سے چل رہے ہیں، مگر آج تک مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ حیلے بہانے کیے جا رہے ہیں اور عدالت انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہے، تو پھر ہم کہاں جائیں؟"انہوں نے خاص طور پر بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

  چیئرمین سینیٹ اور پرڈوکشن آرڈرز
اسد قیصر نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ ابھی تک اعجاز چوہدری کے پرڈوکشن آرڈر پر عملدرآمد نہیں کروا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایران اور اسرائیل کشیدگی کے معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے اور قوم کے سامنے واضح خارجہ پالیسی رکھے۔

  بیرسٹر علی ظفر کا مؤقف
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ان کی جماعت ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعجاز چوہدری کے پرڈوکشن آرڈر تو جاری کر دیے گئے ہیں، مگر عملدرآمد میں رکاوٹیں ہیں۔علی ظفر نے کہا: "اسد قیصر نے بالکل درست کہا کہ اگر عدالتوں سے انصاف نہ ملے تو ہم کہاں جائیں؟ بانی پی ٹی آئی پر بنائے گئے کیسز بے بنیاد ہیں، اور جس دن ان کی **درست سماعت ہوگی، وہ دن ان کیسز کا اختتام ہوگا۔"

  پس منظر
اسد قیصر اور پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی، عدالتی عدم فعالیت اور میڈیا تک رسائی کی شکایات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی، ایران-اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں عوام اور سیاستدانوں میں ملک کی پالیسی پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔