غیر معیاری پیٹرول نے ایرانی صدر کی گاڑیاں بند کر دیں، صدر ٹیکسی میں روانہ

غیر معیاری پیٹرول نے ایرانی صدر کی گاڑیاں بند کر دیں، صدر ٹیکسی میں روانہ

ایران میں غیر معیاری پیٹرول کی فراہمی کا ایک شرمناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملک کے صدر مسعود پزشکیان کو قافلے کی گاڑیاں خراب ہونے کے بعد ٹیکسی میں سفر کرنا پڑا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صدر پزشکیان تبریز کے سرکاری دورے پر جا رہے تھے۔

قافلے کی گاڑیاں درمیان میں بند ہو گئیں
ذرائع کے مطابق، صدر کے قافلے کی تین گاڑیوں نے قزوین صوبے میں واقع ایک پیٹرول پمپ سے ایندھن بھروایا۔ تاہم کچھ فاصلے پر ہی تمام گاڑیاں بند ہو گئیں۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ پیٹرول میں پانی کی آمیزش تھی، جس کے باعث انجن خراب ہو گئے۔صدر نے مقامی حکام کو اطلاع دیے بغیر خود ہی ایک نجی ٹیکسی کا انتظام کیا اور قافلے کے بغیر تبریز روانہ ہو گئے، جہاں وہ طے شدہ سرکاری سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔

پیٹرول پمپ پر پہلے بھی شکایات موجود تھیں
واقعے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا، اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار کے مطابق، متاثرہ پیٹرول اسٹیشن کے خلاف ماضی میں بھی ایندھن میں ملاوٹ کی شکایات موصول ہو چکی تھیں۔ایرانی نیشنل آئل پروڈکٹس ڈسٹری بیوشن کمپنی نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ اسٹیشن کے خلاف پہلے سے رپورٹیں موجود تھیں۔تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حکام نے ایسے غیر معیاری پیٹرول فراہم کرنے والے اسٹیشن کو اب تک بند کیوں نہیں کیا۔

حکومتی خاموشی، عوامی تشویش
اس واقعے پر ابھی تک ایرانی صدارتی دفتر یا وزارتِ تیل کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں واقعے پر حیرت اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر ملک کے صدر کو اس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟