نازیہ آصف
وزیر مذہبی امور کے مطابق "چالیس ہزار پاکستانی زائرین غائب ایران عراق اور شام زیارتوں پہ گئے مگر واپس نہیں لوٹے "۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آئے روز ایسی خبریں سنتے ہیں کہ ہمارے ملک کی فلائیٹ کسی یورپی ملک گء اور فلائیٹ کی ائیر ہوسٹس گم ہو گء ، بیرون ملک گئے کھلاڑی گم ہو گئے۔ اب حالت یہ ہے کہ زائرین بھی گم ہو گئے۔ زہنی پسماندگی کی انتہا ہے کہ اب ہم مذہب کے نام پہ بھی گھپلا کرنے سے نہیں ڈرتے۔
خبر کے مطابق محرم الحرام میں یہ لوگ مقامات مقدسہ کی زیارت اور کء لوگ سیاحتی ویزے پر وہاں پہنچے ، مگر مندرجہ بالا ممالک کی خبر کے مطابق یہ لوگ واپس نہیں گئے۔
اس میں کچھ لوگ تو انفرادی مگر زیادہ تر گروپس کی صورت میں جاتے ہیں کچھ لوگ یہاں سے زمینی راستے سے ایران اور پھر وہاں سے بھی عراق چلے جاتے ہیں۔
اس طرح اپنے ملک سے فرار ہوکر ایسے ممالک کا رخ کرنا جو خود ابھی استعماری قوتوں کے زیر اثر ہیں ،جن کی خود اپنی کوء پالیسی نہیں ، جہادی سپلنٹرز سرگرم ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے۔
یہ سوچنا کس قدر ہولناک ہے کہ مندرجہ بالا ممالک میں ناقص امن عامہ، مقامی و غیر مقامی جہادی تنظیموں کے مرکز ہیں۔ حکومتی رٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔وہاں اتنے سارے پاکستانیوں کا غائب ہو جانا الارمنگ ہے۔ وہ ان جہادی اور انتہا پسند جماعتوں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں۔ جو انھیں اپنا آلہ کار بنا کر گھٹیا مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ دشمن ملک کھلے عام جنگ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد مسلسل، درپردہ وار کیے جا رہا ہے۔ جس کی جارحیت کی کھلی مثالیں ہم بلوچستان اور افغان بارڈر پہ دیکھ رہے ہیں۔
اس حوالے سے سب سے پہلے تو حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ یہ چالیس ہزار لوگ واقعی پاکستانی ہیں؟۔ کیونکہ ہزاروں لاکھوں لوگوں نے مقامی کالی بھیڑوں کے ساتھ مل کر پاکستانی پاسپورٹ بنوا لیے ہوئے ہیں۔اور دنیا بھر میں ان کی شناخت پاکستانی پاسپورٹ ہی ہے اور ملک دشمن عناصر اسے جان بوجھ کر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ ملک سے اتنے سارے انسانوں کا غیر قانونی طریقے سے انخلا بہت حساس معاملہ ہے حکومت کو اس پہ بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پیشہ ورانہ گداگری، جیسے سکینڈل میں ملوث ہم پاکستانی پہلے بین الاقوامی سطح پہ بیعزت ہو چکے ہیں۔آج جب کء ممالک دوسرے ملکوں کے لیے ویزہ پالیسیوں میں نرمی کر رہے ہیں ، ویزہ فری پالیسی دے رہے ہیں۔ دوبء، ترکی ، یو اے ای، سعودی عرب جیسے برادر ملک ہم پہ اپنے در بند کر رہے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ان پاکستانیوں کی تعداد پچاس ہزار بھی بتاء جا رہی ہے۔
لیکن یہ بھی درست ہے۔ جب اشرافیہ اپنی تنخواہوں میں چھ سو فیصد اضافہ کر لے، بجلی، گیس بھی فری لے ، تو عوام الناس میں احساس محرومی بڑھتا ہے۔
ملک میں قانون کی بے توقیری، مہنگائی ، بیروزگاری اور رشوت کا کلچر عام ہے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی جب نوکری نہیں ملتی تو وہ کسی بھی صورت ملک سے فرار چاہتے ہیں
عراق میں تعمیر نو کا کام جاری ہونے پہ مزدوروں کی ڈیمانڈ ہے اور مزدور ی بھی پرکشش ڈالرز میں ملتی ہے
اب ہونا تو یہ چاہیے کہ باقاعدہ لیگل طریقے سے وہاں جایا جائے، کیونکہ اس طرح انھیں پالیسی کے مطابق تنخواہ بھی ملتی ہے اور سیکیورٹی بھی ، مگر ویزے کی پیچیدگیاں اس قدر زیادہ ہو چکی ہیں کہ لوگ ان سے بچنے کے لیے کم پیسے اور کم وقت میں غیر قانونی طریقے سے ان ممالک میں پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں وہ آدھی تنخواہ پہ کام کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں اور قانونی طور پہ حاصل اپنے حقوق سے بھی محروم رہتے ہیں۔
عراقی کمپنیوں کو پہلے پچاس فیصد غیر ملکی مزدور رکھنے کی اجازت تھی مگر شتر بے مہار بڑھتی تعداد نے انھیں غیر ملکیوں کی تعداد صرف تیس فیصد کر نے پہ مجبور کر دیا ہے۔
وہاں کمپنی مالکان بھی غیر قانونی طریقے سے آیے لوگوں کو پسند کرتے ہیں کیونکہ اس میں انھیں آدھی تنخواہ دینا پڑتی ہے
حکومت کو چاہیے کہ متعلقہ ممالک کے زمہ داران سے بات چیت کر کے وہاں مقیم الیگل افراد کو لیگل کرے، انھیں ان کے حقوق دلوائے اور آئندہ کے لیے حج و عمرہ پالیسی کی طرح یہاں بھی چیک اینڈ بیلنس رکھے۔
زیارتوں پہ جانے کے لیے صرف ٹورز کی صورت میں اجازت دی جائے۔
ملک کے اندر چھوٹے موٹے کاروبار کے لیے شرائط بالکل آسان اور سادہ کرے۔
یہاں مزدور کی تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ یقینی بنائے تاکہ اس غیر قانونی انخلا کو روکا جا سکے۔
یونیورسٹیز میں نوجوانوں کے ہاتھوں میں صرف ڈگریاں نہ
تھمائی جائیں انھیں عملی تربیت بھی دی جائے ، تاکہ ملک کے نوجوانوں کو باہنر بنا کر بھیجا جائے جہاں وہ ملکی وقار اور ریونیو میں اصافہ کریں نہ کہ ملک کے لیے ہزیمت کا باعث بنیں