پوٹھوہار خطے میں شدید بارشوں کا خطرہ، پی ڈی ایم اے پنجاب نے حفاظتی اقدامات میں شدت کر دی

پوٹھوہار خطے میں شدید بارشوں کا خطرہ، پی ڈی ایم اے پنجاب نے حفاظتی اقدامات میں شدت کر دی

راولپنڈی: محکمہ موسمیات نے پوٹھوہار خطے میں آئندہ 48 گھنٹوں میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کر دی ہے، جس کے سبب علاقے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔

 ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ تربیلا ڈیم بھرنے کے بعد درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے، دریائے ستلج میں 74 ہزار کیوسک پانی داخل ہو رہا ہے اور دونوں دریاؤں کے قریب مکانات کو خالی کروا لیا گیا ہے تاکہ شہری محفوظ رہیں۔راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ ساتواں اسپل مون سون کا ہے، اور وقفے وقفے سے بارشیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مری ایکسپریس وے پر لینڈ سلائیڈنگ ہو چکی ہے، اس لیے شہری مری جانے سے گریز کریں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تمام وسائل کی دیگر صوبوں میں ضرورت کے مطابق فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔عارف علی کاٹھیا نے کہا کہ نالہ لئی کی صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کے اقدامات جاری ہیں اور مستقبل کے اسپل کے بعد ہونے والے نقصانات کا ایک جامع سروے کے بعد ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ نالوں اور دریاؤں سے دور رہیں اور موسمیاتی تبدیلی کو ایک سنگین ایشو کے طور پر لیں۔

مری میں تعلیمی اداروں میں دو روز کے لیے تعطیلات

پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہدایات کے پیشِ نظر مری انتظامیہ نے آئندہ دو روز کے لیے تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق مری میں اب تک 74 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے اور راولپنڈی، مری، جہلم، چکوال اور اٹک میں مزید بارشوں کی پیش گوئی ہے۔ ممکنہ طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

نالہ لئی اور دیگر حفاظتی انتظامات

نالہ لئی کے دورے کے دوران ڈی جی پی ڈی ایم اے نے صفائی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ اور ایم ڈی واسا بھی موقع پر موجود تھے۔ نالہ لئی سے ملحقہ نالوں پر نظر رکھی گئی ہے، نشیبی علاقوں میں واسا کی ہیوی مشینری تعینات ہے، اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ تمام ادارے ہائی الرٹ رہیں اور شہری حفاظتی اقدامات پر عمل کریں تاکہ ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصان کم سے کم ہو۔