سیلاب، کشتی مالکان کی لوٹ مار

نجی کشتی والے نے فی جانور 60 ہزار اور چار افراد کے الگ پیسے مانگے،50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک ادائیگی کا دعویٰ 
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ ریسکیو کے منتظر ان متاثرین نے دعویٰ کیا ہے کہ جان بچانے کیلئے انہیں پرائیویٹ کشتی مالکان کو بھاری معاوضہ دینا پڑا۔علی پور کے نواحی علاقے کے محمد ابرار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے پانچ جانوروں اور گھر کے چار افراد کے ساتھ سیلاب میں پھنس گئے تھے۔ ریسکیو کیلئے پرائیویٹ کشتی والے نے فی جانور 60 ہزار روپے اور چار افراد کیلئے الگ رقم مانگی۔ میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی، آخرکار دو جانور اور کچھ رقم دے کر باقی جانوروں اور گھر والوں کو بچانا پڑا۔محمد ابرار جیسے درجنوں افراد نے بی بی سی کو ملتی جلتی شکایات کیں۔ بی بی سی نمائندے عمر دراز گوندل کے مطابق اس وقت ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، فوج، نیوی، فلاحی ادارے اور پرائیویٹ افراد ریسکیو کاموں میں مصروف ہیں۔ مخیر حضرات بغیر معاوضہ خدمت کر رہے ہیں جبکہ بعض کشتی مالکان متاثرین سے بھاری رقم وصول کر کے ریسکیو کر رہے ہیں۔درجنوں متاثرین نے دعویٰ کیا کہ انہیں ریسکیو ہونے کیلئے 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک ادا کرنا پڑے۔ ایک شخص نے بتایا کہ کشتی والے نے مجھ سے 50 ہزار روپے لئے لیکن آدھے راستے میں کسی اور نے زیادہ رقم دی تو ملاح نے مجھے چھوڑ کر اسے ساتھ بٹھا لیا۔ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نثار ثانی نے تصدیق کی کہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں تقریباً 1200 کشتیاں شامل ہیں۔ ان میں سرکاری اور پرائیویٹ کشتیاں دونوں شامل ہیں۔ ان کے مطابق کشتی الٹنے کے چار واقعات جنوبی پنجاب میں پیش آئے جن میں 11 افراد جاں بحق ہوئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے پرائیویٹ کشتی مالکان کیلئے فی چکر 5 ہزار روپے اور پٹرول فراہم کرنے کا ریٹ مقرر کیا تھا لیکن سیلاب کے دوران کئی کشتی مالکان نے لالچ کا مظاہرہ کیا اور متاثرین کو مجبوری میں منہ مانگے پیسے دینا پڑے۔ اب تجویز زیر غور ہے کہ اس مقصد کیلئے چھوٹی فیریز خریدی جائیں۔بی بی سی سے گفتگو میں ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ جنوبی پنجاب کی موجودہ صورتحال صرف کشتیوں کی کمی یا وسائل کی قلت سے نہیں بلکہ بڑی حد تک انتظامیہ کی بروقت تیاری نہ ہونے سے پیدا ہوئی۔دریں اثناء￿  سوشل میڈیا پر متاثرین نے شکایت کی کہ بعض پرائیویٹ کشتیاں ریسکیو کے بجائے چوری میں استعمال ہو رہی ہیں۔ حکومت نے ایسی دو کشتیاں اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔ ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نے اعتراف کیا کہ بعض افراد خالی گھروں کو کشتیوں کے ذریعے لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ہزاروں متاثرین اپنے گھروں سے نکلنے پر تیار نہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ گھر خالی ہونے کی صورت میں لوٹ مار کا نشانہ بن جائیں گے۔