علی محمد خان محمود اچکزئی پر عدم اعتماد
عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک انصاف کو خود مذاکرات کی قیادت کرنا ہوگی ،پارٹی قیادت نے رہائی کے لیے سنجیدہ کوشش نہ کی تو میں خود آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کروں گا ، احتجاج میں 3سے 5ہزار افراد شریک تھے ، آج میری باتیں ذرا کڑوی ہیں، میں سب کا احترام کرتا ہوں : رہنما تحریک انصاف
اسلام آباد( بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اب تحریک انصاف کو خود مذاکرات کی قیادت کرنا ہوگی، اگر پارٹی قیادت نے رہائی کے لیے سنجیدہ کوشش نہ کی تو وہ اپنے طور پر آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کریں گے علی محمد خان نے کہا کہ اگر جون میں شہباز شریف کی دعوت پر محمود خان اچکزئی مذاکرات کی میز پر بیٹھ جاتے تو ممکن تھا کہ معاملات آگے بڑھتے اور عمران خان اور ان کی اہلیہ کو اڈیالہ جیل میں شدید گرمی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمانی پارٹی اور قومی اسمبلی کے فلور پر بھی متعدد مرتبہ مذاکرات میں بیٹھنے کی اپیل کر چکے ہیں۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی غیر مشروط طور پر اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے آنے والی دعوت کو کسی فرد کی نہیں بلکہ پاکستان کے وزیراعظم کی دعوت سمجھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو یہ دعوت تحریک انصاف کی وجہ سے دی گئی ہے، اس لیے مذاکرات کے معاملے پر پارٹی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ان کی سیاست اب وہیں سے شروع ہوگی جہاں عمران خان جیل سے باہر آئیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین، جنرل سیکریٹری اور دیگر رہنماؤں کو آگے بڑھ کر رہائی کے لیے راستہ بنانا چاہیے۔ پارٹی کو عوامی نیشنل پارٹی، محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس اور مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں سے مدد لینی چاہیے، تاہم مذاکرات کی قیادت تحریک انصاف خود کرے۔ علی محمد خان نے کہا کہ اگر کوئی رہنما مذاکرات میں بیٹھنے سے انکار کرتا ہے تو تحریک انصاف کے چیئرمین کو خود مذاکرات میں شریک ہونا چاہییانہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ کوشش نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے طور پر اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان 74 سال کی عمر میں ہیں اور ان کا ایک دن بھی جیل میں ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ علی محمد خان نے 4 اکتوبر 2024 کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عمران خان کو بھی یہ بات بتانا پڑی تھی کہ احتجاج میں شرکا کی تعداد ایک لاکھ نہیں تھی، جیسا کہ بعض لوگ دعویٰ کر رہے تھے، بلکہ ان کے اندازے کے مطابق تین سے پانچ ہزار یا زیادہ سے زیادہ دس ہزار سے کچھ زائد افراد شریک ہوئے تھے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ موجودہ حالات میں احتجاج کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہے اور عدالتی ریلیف کی امید بھی کم دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی نظام پہلے جیسا نہیں رہا۔ علی محمد خان نے زور دیا کہ آگے بڑھنے کا راستہ کسی ڈیل کے بجائے سیاسی ڈائیلاگ اور مذاکرات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال سے عمران خان جیل میں ہیں، احتجاج مؤثر ثابت نہیں ہو سکے اور مذاکرات بھی نتیجہ خیز نہیں ہوئے، جبکہ تمام مشکلات کا سامنا عمران خان کو کرنا پڑ رہا ہے۔