انگلینڈ کے تجربہ کار بلے باز جو روٹ نے بھارت کے خلاف دوسرے ون ڈے میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ٹیم کو فتح دلائی بلکہ کھیل کے جذبے کی بھی بہترین مثال قائم کر دی۔
جو روٹ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ساتھی کھلاڑی گس اٹکنسن کو واضح ہدایت دی تھی کہ وہ ذاتی سنگ میل کے بجائے ٹیم کی کامیابی پر توجہ دیں اور اگر میچ ختم کرنے کا موقع ملے تو فوری طور پر فتح یقینی بنائیں۔یہ واقعہ بھارت کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں پیش آیا، جہاں انگلینڈ نے بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کو کامیابی کے لیے 234 رنز کا ہدف دیا تھا۔ ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کو ابتدا ہی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب جسپریت بمراہ نے پہلی ہی گیند پر بین ڈکٹ کو پویلین واپس بھیج دیا۔ اس کے بعد جیکب بیتھل اور کپتان ہیری بروک بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔مشکل صورتحال میں جو روٹ نے ذمہ داری سنبھالی اور محتاط و شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی اننگز کو سہارا دیا۔ انہوں نے ناقابل شکست 99 رنز اسکور کیے اور ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔میچ کے آخری لمحات میں روٹ اپنی سنچری سے صرف ایک رن کی دوری پر تھے، تاہم انہوں نے گس اٹکنسن کو کہا کہ اگر میچ ختم کرنے کا موقع ملے تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ٹیم کو کامیابی دلا دیں۔
گس اٹکنسن نے روٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے چوکا لگا کر انگلینڈ کو فتح دلا دی، جس کے باعث روٹ اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے جو روٹ نے کہا کہ ٹیم کی جیت کسی بھی ذاتی اعزاز سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کھلاڑی کے لیے سب سے بڑا احساس اپنی ٹیم کو کامیابی دلانا ہے۔روٹ نے مزید کہا کہ بھارت کے خلاف حاصل ہونے والی یہ فتح انگلینڈ کے اعتماد میں اضافہ کرے گی، خاص طور پر لارڈز میں ہونے والے فیصلہ کن ون ڈے سے قبل یہ کامیابی ٹیم کے لیے بہت اہم ہے۔واضح رہے کہ جو روٹ کا شمار انگلینڈ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے اور وہ کئی مواقع پر اپنی ذمہ دارانہ بیٹنگ کے ذریعے ٹیم کو مشکل حالات سے نکال چکے ہیں۔