پنجاب :تاریخ کا بڑا6250 ارب کا بجٹ آج

کوئی نیاٹیکس نہیں لگے گا، معاشی ترقی، شفافیت اور سماجی تحفظ کے اصولوں پر مبنی ہوگا:مجتبیٰ شجاع 
 ن لیگ اور اتحادیوں کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت، وزیر اعلیٰ بھی شریک ہونگی، احتجاج کا امکان
لاہور( کرائم رپورٹر)پنجاب اسمبلی میں مالی سال 2025-26کیلئے صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے حجم کا6250 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا ، ترقیاتی بجٹ 1100ارب ،وفاق سے 40کھرب ،76ارب سے زائد ملنے کا تخمینہ لگایاگیاہے،بجٹ اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل پنجاب کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن کے مطابق آ ئند ہ مالی سال کا بجٹ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے ترقیاتی ویڑن کا ترجمان ہو گا۔ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا تاہم پہلے سے لاگو ٹیکسز کی وصولی کو یقینی بنایا جائے گا ،بجٹ میں صحت سہولت کارڈ، فری ادویات، دل کے مفت علاج کی بحالی، اور سمارٹ ہسپتالوں کی تعمیر جیسے منصوبے شامل ہونگے ، سرکاری سکولوں کی اپگریڈیشن، اساتذہ کی تربیت، اور "نون سٹوڈنٹ سکالرشپ سکیم" تعلیم کے بجٹ کا اہم حصہ ہوں گی۔ کسان کارڈ کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ زرعی شعبہ میں جدید مشینری اور پانی کے موثر استعمال جیسی سکیمیں متعارف کروائی جائیں گی۔ بجٹ ’’معاشی ترقی، شفافیت اور سماجی تحفظ‘‘ کے اصولوں پر مبنی ہوگا۔ خصوصی افراد، خواتین، بزرگ شہریوں، اور مزدوروں سمیت تمام طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ پسماندہ اضلاع خصوصاًَ جنوبی پنجاب کی ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔"اپنی چھت اپنا گھر"، "دھی رانی سکیم"، "لیپ ٹاپ سکیم"، اور "پنجاب روزگار پروگرام" جیسے اہم اقدامات آ ئند ہ مالی سال میں بھی جاری رکھے جائیں گے۔ بجٹ ایک پائیدار، عوام دوست اور حقیقت پسندانہ دستاویز ہو گی، جو نہ صرف معاشی نظم و ضبط کی علامت ہو گی بلکہ عوامی توقعات کی تکمیل کا ذریعہ بھی بنے گا۔ دوسری جانب پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو روز کے وقفے کے بعد آج صبح دس بجے شروع ہوگا ، اجلاس دو سیشنز پر مشتمل ہوگا،پہلے سیشن میں طے شدہ ایجنڈے کے مطابق معمول کی کارروائی جبکہ سہ پہر 3بجے دوسرے سیشن میں بجٹ پیش کیاجائے گا۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن بجٹ پیش کرینگے ،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف بھی بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن)اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کو اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ان کیلئے ایوان وزیراعلیٰ میں ناشتے کا اہتمام بھی کیا جائے گا جس کے بعد اراکین پنجاب اسمبلی پہنچیں گے۔دوسری جانب اپوزیشن بھی بجٹ اجلاس کیلئے اپنی حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے اپوزیشن چیمبر میں اجلاس منعقد کرے گی۔ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کے موقع پر شدید احتجاج کئے جانے کا امکان ہے۔