پنجاب میں زکوٰۃ کمیٹیوں کی جانب سے کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بینک کی خدمات پر ایک کروڑ 78 لاکھ روپے زائد ادا کیے گئے، اور افسران نے ٹیلی کام کمپنی سے خدمات پر انکم ٹیکس کی کٹوتی بھی نہیں کی۔ اس کے علاوہ، بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کو بھی پنجاب میں زکوٰۃ کی ادائیگی کی گئی، جس سے 20 کروڑ 19 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ افسران نے بغیر تصدیق کے بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کو کروڑوں روپے کی رقم دی۔ علاوہ ازیں، پنجاب کے سرکاری ملازمین نے بھی زکوٰۃ فنڈز سے خطیر رقم حاصل کی، اور استحقاق کے بغیر 318 افراد کو 47 لاکھ 19 ہزار روپے دیے گئے۔یہ بے ضابطگیاں عوامی وسائل کے ضیاع اور شفافیت کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان معاملات کی تحقیقات کرنی چاہیے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔