ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی:صدر، وزیراعظم،وزیرداخلہ

ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی:صدر، وزیراعظم،وزیرداخلہ

پشاور کے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر دہشت گرد حملے کو 11 برس مکمل ہو گئے۔ سانحہ اے پی ایس پشاور کی آج 11ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

سانحہ اے پی ایس کی 11ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم معصوم بچوں کی قربانی کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی یاد ہمارے قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی بات چیت ممکن نہیں۔ انہوں نے بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دشمن عناصر کو بے نقاب کرتا رہے گا۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کا پیچھا کیا جائے گا۔

اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج پوری قوم سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے، جنہوں نے وطنِ عزیز کے مستقبل کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دلخراش سانحہ پوری قوم کے لیے ایک عظیم آزمائش تھا، جس نے دلوں کو غم سے بھر دیا مگر قومی حوصلے پست نہ کر سکا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اے پی ایس کے معصوم بچوں، اساتذہ اور عملے کی قربانیاں ہماری قومی یادداشت کا لازمی حصہ ہیں اور پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی اس سانحے کا حقیقی انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج جب پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے ناسور کا سامنا کر رہا ہے تو سانحہ اے پی ایس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ریاست، سیکیورٹی ادارے اور عوام متحد ہو کر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت دہشت گردی کے خلاف آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سانحہ اے پی ایس کے معصوم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ بہادر طلباء کے عزم، حوصلے اور عظیم قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحۂ اے پی ایس پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، جس نے دہشت گردی کے سفاک چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ 16 دسمبر 2014 کو معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر ریاستِ پاکستان اور قوم کے مستقبل پر حملہ کیا گیا، تاہم اے پی ایس کے شہداء کی عظیم قربانی نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ایک واضح، فیصلہ کن اور غیر متزلزل قومی راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے پاکیزہ خون نے یہ فیصلہ ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا کہ دہشت گردی کے خلاف کسی ابہام یا مصلحت کی کوئی گنجائش نہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ دہشت گردی چاہے کسی نام، نعرے یا جھنڈے کے تحت ہو، ہر صورت ناقابلِ قبول ہے، اور ریاست دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچا کر رہے گی۔