تائیوان نے امریکا سے 38 جدید امریکی ساختہ ابرامز ٹینکوں کی پہلی کھیپ وصول کی ہے، جو اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔
یہ ٹینک 2019 میں کیے گئے ایک معاہدے کے تحت 1.2 ارب ڈالرز سے زائد مالیت میں حاصل کیے گئے تھے۔ ٹینکوں کو تائیوان کے سینچو شہر میں واقع فوجی تربیتی بیس پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی مزید تربیت اور آپریشنز کی تیاری کی جائے گی۔یہ ٹینک تائیوان کی فوج کی طاقت بڑھانے کے لیے اہم ہیں، خاص طور پر چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں۔ اس معاہدے کے تحت مجموعی طور پر 108 ابرامز ٹینک فراہم کیے جائیں گے، اور مزید ٹینک 2025 تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ ٹینک تائیوان کی فوج کو چین کے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید دفاعی صلاحیت فراہم کریں گے۔
دوسری جانب چین نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنا بند کرے، اور کہا کہ چین اپنی قومی خودمختاری، سلامتی، اور علاقائی سالمیت کا سختی سے دفاع کرے گا۔ چین کی حکومت کا موقف ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین کا داخلی مسئلہ ہے اور امریکا کی مداخلت سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے۔