فاروق رضی
"روٹی، کپڑا اور مکان — انسان کی بنیادی ضروریات ہیں۔ مگر آج پاکستان میں یہ تینوں چیزیں عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ بجلی کے بلوں نے گھریلو صارفین کی نیند اْڑا دی ہے، آٹے کی قیمت میں اضافے نے دسترخوان کی رونق ختم کر دی ہے مہنگائی کی یہ آگ صرف غریب کو ہی نہیں جلا رہی، بلکہ مڈل کلاس بھی اس کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ بحران کیوں بڑھا؟ اور کیا اس کا کوئی حل ممکن ہے؟
"مہنگائی کا مطلب صرف بڑھتی قیمتیں نہیں، بلکہ عوام کی قوتِ خرید کا خاتمہ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں میں خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں 35 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ آٹا 40 روپے فی کلو سے بڑھ کر 180 روپے ہو گیا، چکن 150 سے 500 روپے، اور بجلی کا یونٹ 10 سے 35 روپے ہو چکا ہے۔ اوسط پاکستانی خاندان کی ماہانہ آمدنی 40 ہزار روپے ہے، جبکہ اخراجات 70 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ فرق قرضوں اور مجبوریوں کی نئی کہانیاں لکھ رہا ہے۔مہنگائی کی وجہ سے بچوں کی تعلیم اور صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں
"اس معاشی بحران کی سب سے بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ جب حکومتیں اپنی مکمل مدت پوری نہیں کر پاتیں، تو منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کار اعتماد کھو دیتے ہیں، اور ملک سے زرمبادلہ نکلنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے
"پاکستان جو کچھ بھی استعمال کرتا ہے چائے کی پتی سے لے کر موبائل فون تک زیادہ تر درآمد شدہ ہے۔ جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری برآمدات بہت کم ہیں۔ ایک طرف ہم 70 ارب ڈالر کی درآمدات کرتے ہیں تو دوسری طرف صرف 30 ارب ڈالر کی برآمدات۔ یہ 40 ارب ڈالر کا خلا قرضوں سے پْر کیا جاتا ہے، اور پھر یہ قرضے اگلی نسلوں پر بوجھ بنتے ہیں
"مہنگائی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ اپنی ضروریات میں سے بھی کچھ پر سمجھوتا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ لوگ ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے پرانی دوائیاں استعمال کر رہے ہیں، بچوں کو اسکول سے نکال کر مزدوری کرنے یا ورکشاپوں پر لگا دیا گیا ہے، اور شادیوں میں سادگی کی جگہ مفلسی نے لے لی ہے۔ نفسیاتی اثرات بھی خوفناک ہیں ڈپریشن، خودکشی کے واقعات، اور خاندانی جھگڑوں میں اضافہ ہوا ہے۔نوجوانوں میں مایوسی اور بیرون ملک جانے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے طلبا۶ اب ملکی خدمت کرنے سے زیادہ غیر ملکی خدمت اور ملک چھوڑ پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کیا اس صورتحال سے نکلنے کی کوئی راہ ہے؟ جی ہاں، مگر یہ آسان نہیں۔ سب سے پہلے تو سیاسی استحکام لانا ہو گا اس کے بعد طویل مدت پالیسیاں بنانا ہوں گی دوسرا قدم مقامی پیداوار بڑھانا ہے چاہے وہ زراعت ہو، ٹیکسٹائل یا آئی ٹی ہمیں درآمدات کم اور برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ تیسرا قدم ٹیکس نظام میں اصلاحات ہیں، تاکہ امیر طبقہ بھی اپنا حصہ ڈالے۔" توانائی کے سستے ذرائع (شمسی توانائی، ہائیڈل پاور) کو بڑھانا ہوگا عوام کو براہِ راست ریلیف دینا حکومتی ترجیحات میں اول درجے پر رکھنا ہوگا تبھی مہنگا?ی کی اس آگ کا بجھ پانا ممکن ہے ورنہ یہ پورے معاشرے کو جلا کر راکھ کر دے گی۔ مگر یاد رکھیں، یہ آگ سیاسی عدم استحکام، ناقص منصوبہ بندی اور درآمدات کے لت کی دین ہے۔ حل صرف حکومت کے ہاتھ نہیں ہمیں بطورِ قوم اپنی عادات بدلنا ہوں گی، مقامی اشیاء استعمال کرنا ہوں گی، اور محنت کو عزت دینا ہو گی۔ تبھی ممکن ہے کہ ایک دن یہ عنوان تاریخ کا حصہ بن جائے: 'مہنگائی کی آگ بجھ چکی ہے