نئی دہلی: بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی پی ایل (Indian Premier League) میں ممکنہ غیرقانونی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک الرٹ جاری کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، بی سی سی آئی نے تمام ٹیموں کو خبردار کیا ہے کہ کاروباری شخصیات ممکنہ طور پر آئی پی ایل کے کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز، کوچز، اور دیگر متعلقہ افراد کو پھنسا سکتی ہیں۔
بی سی سی آئی کا الرٹ:
بی سی سی آئی نے ٹیم مالکان، کھلاڑیوں، کوچز، آفیشلز، سپورٹ اسٹاف اور کمنٹیٹرز کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محتاط رہنا چاہیے اور مشکوک کاروباری افراد سے دور رہنا چاہیے جو ان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
غیرقانونی تعلقات اور مشکوک کاروباری شخصیت:
آئی پی ایل اینٹی کرپشن سیکیورٹی یونٹ (ACS) کا کہنا ہے کہ حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والی ایک کاروباری شخصیت آئی پی ایل کے افراد کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس شخص کا تعلق بکیز (bookies) سے ہے اور ماضی میں کرپٹ سرگرمیوں میں ملوث رہ چکا ہے۔اینٹی کرپشن سیکیورٹی یونٹ نے ٹیموں اور کھلاڑیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس کاروباری شخصیت کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کو فوراً رپورٹ کریں۔
غیرقانونی سرگرمیوں کے طریقے:
رپورٹس کے مطابق، یہ مشکوک شخص مہنگے تحفے، جیولری، اور پرائیویٹ پارٹیز میں بلانے کے ذریعے لوگوں کو پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس شخص کو ٹیم ہوٹلز اور میچز کے دوران آئی پی ایل میں شامل افراد کے قریب دیکھا گیا ہے، اور وہ کھلاڑیوں اور ٹیم کے ممبرز کے فیملیز کو گفٹ دینے کی کوششیں کر رہا ہے۔
ایفیکٹیو نگرانی:
بی سی سی آئی اور آئی پی ایل اینٹی کرپشن سیکیورٹی یونٹ کی تمام ٹیموں اور کھلاڑیوں کو محتاط رہنے اور اس طرح کے مشکوک افراد سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کرکٹ میں کرپشن اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
آئی پی ایل میں کرپشن کی روک تھام:
آئی پی ایل میں کرپشن اور غیرقانونی سرگرمیوں کی موجودگی پر پچھلے برسوں میں کئی بار سوالات اٹھائے جا چکے ہیں، اور بی سی سی آئی کی جانب سے اس حوالے سے کڑی نگرانی اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ کرکٹ کی شہرت اور وقار کو برقرار رکھا جا سکے۔