لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینئر رہنما شیری رحمان نے کشمیر کانفرنس سے خطاب میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ "مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خوفناک سلسلہ جاری ہے، جسے جان بوجھ کر عالمی ایجنڈے سے ہٹایا جا رہا ہے"۔
اہم نکات:
"مودی سرکار کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بن چکا ہے"۔
"فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے مظالم عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں"۔
"بھارت میں وقف بورڈ کے قانون اور ہندوتوا پالیسیوں سے مسلمانوں کے خلاف منظم یلغار جاری ہے"۔
عالمی فورم پر موقف:
شیری رحمان نے زور دے کر کہا کہ "اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کشمیر کا مسئلہ زیادہ مؤثر طریقے سے اٹھانا ہوگا"۔ انہوں نے پی پی پی کی طرف سے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
ان کے بیان کے پس منظر میں:
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مسلسل رپورٹس۔بھارت میں مسلم مخالف قوانین (جیسے شہریت ترمیم ایکٹ) اور وقف املاک پر کنٹرول کے تنازعات۔فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو جوڑ کر پیش کرنے کی کوشش۔یہ بیان ایک طرف جہاں بھارت کی پالیسیوں پر تنقید ہے، وہیں عالمی برادری کی خاموشی کو بھی للکارتا ہے۔ پی پی پی کی قیادت کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کرنے کی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔