گاڑیاں، سامان واپس نہ کرنے والے سابق وزرا کے خلاف مقدمات

پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے سرکاری گاڑیوں  کے ذاتی استعمال کا انکشاف ہوا 
پشاور(آئی این پی ) خیبرپختونخوا میں سرکاری گاڑیاں اور سامان واپس نہ کرنے والے پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزرا کے خلاف مقدمات درج کرلئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق سابق صوبائی وزیر فخر جہاں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، جبکہ سابق صوبائی وزیر ریاض خان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا  ۔حکام نے شفیع جان کے پاس موجود سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں، جبکہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزرا کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے محکمہ ایڈمنسٹریشن سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔مقدمات بونیر اور باجوڑ میں درج کیے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے سرکاری گاڑیوں اور دیگر سامان کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ دریں اثنا  پی ٹی آئی اراکینِ اسمبلی کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کی سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ اور ذاتی استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔  پی ٹی آئی ایم این اے سہیل سلطان کے پاس ٹویوٹا یارس جبکہ ایم پی اے شرافت اور ایم پی اے ملک شفیع اللہ خان کے پاس سرکاری ٹویوٹا ریوو زیر استعمال تھی۔ پی ٹی آئی ایم پی اے اعظم خان، عبیدالرحمان اور ایم این اے محبوب شاہ کے پاس بھی سرکاری ٹویوٹا ریوو گاڑیاں زیرِ قبضہ رکھنے کے ثبوت سامنے آئے۔اسی طرح، پی ٹی آئی ایم پی اے لیاقت خان سرکاری ٹویوٹا کرولا جبکہ ایم پی اے عبدالمنعم اور چیئرمین زکو شانگلہ زیداللہ کے زیرِ استعمال سرکاری ٹویوٹا ریوو تھی۔ پی ٹی آئی ایم پی اے فخر جہاں کے زیرِ استعمال سرکاری ٹویوٹا گرینڈی، ایم پی اے عبدالکبیر کے پاس ٹویوٹا ریوو جبکہ ریاض خان کے زیرِ استعمال سرکاری ہونڈا سِوک تھی۔پی ٹی آئی ایم پی اے انور خان اور یامین خان کے زیرِ استعمال سرکاری ٹویوٹا ریوو جبکہ ایم پی اے فضل حکیم کے پاس سرکاری ٹویوٹا فارچیونر  رکھنے  کا انکشاف ہوا ہے ۔پشاور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی ایم پی اے ڈاکٹر اسرار مہمند کے پاس ٹویوٹا فارچیونر اور ٹویوٹا ویگو رکھنے کے ثبوت سامنے آئے ہیں جبکہ کوہاٹ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے داد اور ایم پی اے شاہ تراب نے سرکاری ٹویوٹا جی ایل آئی گاڑی اپنے قبضے میں لے رکھی تھی۔مردان ڈویژن کے پی ٹی آئی ایم پی اے زرشاد کے زیرِاستعمال تین سرکاری گاڑیاں (ٹویوٹا کرولا، ٹویوٹا ویگو اور سزوکی کلٹس) جبکہ تحصیل چیئرمین صوابی کے پاس ٹویوٹا یارس موجود تھی۔دوسری جانب، پشاور ہائیکورٹ کے سامنے سے غیر فعال وزیر اعلی سہیل آفریدی کے وکیل بشیر وزیر کے مبینہ اغوا کے معاملے پر انصاف لائرز فورم کے وکلا چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوئے۔انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ بشیر وزیر ایڈووکیٹ کو ہائیکورٹ کے سامنے سے اٹھایا گیا۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ باضابطہ درخواست فائل کر کے واپس میرے پاس آجائیں، درخواست میں عینی شاہدین کا ذکر بھی کریں۔ وکیل نے کہا کہ ہم درخواست جمع کرتے ہیں۔