محمد علی
بچوں کی اچھی تربیت ماں باپ کا بنیادی فرض ہے۔
ساتھ انکو خوداعتمادی اور مناسب آزادی دینا بھی والدین کا فرض ہے۔
مگر آزادی کے نام پر آج کل والدین نے اپنے بچوں کو ریس کے میدان کا کھلاڑی بنا دیا ہے۔ خاص کر لڑکیوں کی بے جا آزادی ہے۔ بعض والدین سب کچھ دیکھ کر جان کر بھی انجان بن کر زندگی گزار رہے ہوتے ہی پھر بعد میں رو رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ بچی کیا بچہ کیا ان میں سے اکثر محفوظ نہیں وجہ یہ ہے کے عبرت ناک سزائیں نہیں، قانون نہیں تو پھر کیسے کوئی ڈر کر یا سزا کے خوف سے جرم نہ کرے۔
دیار غیر میں تو مادر پدر آزادی ہے وہاں رشتوں کا کوئی لحاظ نہیں اور نوجوان نسل محفوظ نہیں مگر ہمارے یہاں بعض نئے دور کے والدین اپنی بچیوں کو بیرون ملک یا اندرون ملک بغیر کسی سوچ اور ڈر کے اکیلے روزگار اور تعلیم کیلئے بھیج دیتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کے وہاں اور یہاں کا ماحول کیا ہے۔ اگر بیرون ملک کوئی اپنا رہتا ہے تو کوئی مضائقہ نہیں کے وہاں کوئی تو اپنا ہے تھوڑی تسلی ہوتی ہے مگر دوسروں کے دیکھ کر مقابلہ کرنا ریس کرنا اوراپنی بچیوں کو اکیلے دیار غیر بھیجنا مناسب نہیں۔ وہاں اکیلے انکا اپنا محفوظ نہیں تو آپ کی بچی کیسے بغیر کسی خطرے کے رہ سکتی ہے۔ یہ بات ہمارے نام کے ماڈرن والدین نہیں سمجھتے۔ خدا تمام بچوں، بچیوں کو محفوظ رکھے اور انکی حفاظت فرمائے، آمین۔
اسی طرح بچیوں کو بے جا آزادی دے دینا کے وہ نوکری میں اکیلے بیرون ملک یا اندرون ملک سفر کریں یہ ہمارے اخلاقی اقدار اور روایات کے بر خلاف ہے۔ آئے دن کہانیاں آتی رہتی ہے کے اس کے جنگل جیسے ماحول میں کوئی محفوظ نہیں نہ ہی کوئی اعتبار کے قابل۔ بچیاں چاہے وہ ایکٹریس ہوں یا روزی کی تلاش میں یا کوئی اور جب گھر والوں سے کوسوں دور انجان جگہ میں رہتی ہیں تو پھر پریشان ہی رہتی ہیں جس کی مثال کئی بچیوں کی عبرت ناک کہانیاں ہیں جو کے اپنے گھر والوں سے دور چلی گئی تھیں یا بیجا آزادی سے کبھی اس شہر اور کبھی اس شہر۔
سلام ہے ان گھر والوں کو جو اپنی آنکھیں بند کر کے اس ماحول میں بچیوں کو بھیج کر سکون کی نیند سوتے ہیں۔
ہر چیز پیسہ نہیں، حدود قیود بھی معنی رکھتا ہے۔
ماں، باپ کو دوسرے ملک اور شہر بھیجتے ہوئے بہت کچھ سوچنا چاہیے اور تھوڑا کھائیں مگر سکون اور عزت ملے یہی سوچ ہونی چاہئے۔ اپنے بچے، بچیوں کی حفاظت کریں اپنے سامنے۔ صرف جدید دور کا ماڈرن انسان بننا اور شتر مرغ کی طرح اپنی گردن ریت میں دباکر کر زندگی گزارنا
کامیابی اور عزت نہیں۔
علی پاکی