سینیٹر شیری رحمان نے برطانوی جریدے میں شائع ہونے والی بشریٰ بی بی سے متعلق خصوصی رپورٹ پر اپنی گہری تشویش اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات حیران کن اور پریشان کن ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر فیصلہ، ہر تقرری، حتیٰ کہ کابینہ کے اہم فیصلے بھی بشریٰ بی بی کی ہدایات اور اشاروں کے تحت ہوتے تھے۔شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں نے یہ کہانیاں سنائی ہیں اور ان کی تصدیق بھی ہوئی ہے کہ ایک غیر منتخب خاتون کے اشارے پر حساس اداروں سے معلومات حاصل کی جاتی تھیں اور ان معلومات کو اپنی روحانی پیشگوئی قرار دیا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات کسی ناپسندیدہ شخص کو بھی اگلے دن برطرف کیا جاتا تھا، اور بشریٰ بی بی کی طرف سے جہاز کے اڑنے کے وقت کا تعین بھی کیا جاتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ شرمناک اور تشویشناک ہے کہ ایک غیر منتخب شخصیت اس حد تک اثرورسوخ رکھتی تھی اور اہم فیصلوں میں دخل اندازی کرتی تھی۔ شیری رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاملہ حساس اور سنگین نوعیت کا ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آسکے اور ملک کے سیاسی اور آئینی نظام کو نقصان پہنچنے سے روکا جا سکے۔