پاکستان میں غربت میں اضافے کے ساتھ استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

پاکستان میں غربت میں اضافے کے ساتھ استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

پاکستان میں معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی غربت کے باعث گزشتہ مالی سال کے دوران استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

 عالمی بینک کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 45 فیصد ہو چکی ہے، جس سے لینڈا بازار اور ہفتہ بازار جیسے مراکز کم آمدنی والے طبقے کے لیے ناگزیر بنتے جا رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں پاکستان نے 11 لاکھ 37 ہزار ٹن استعمال شدہ کپڑے درآمد کیے جن کی مالیت 51 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہی۔ یہ گزشتہ سال کے 9 لاکھ 90 ہزار ٹن (43 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ سستی اشیا کی بڑھتی طلب اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی طور پر تیار کردہ برانڈڈ کپڑے بڑی تعداد میں عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق غربت کے نئے معیار—فی کس یومیہ 4.20 ڈالر—کے تحت ملک کی 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جو پچھلے معیار 3.65 ڈالر کے تحت 39.8 فیصد تھی۔پاکستان سیکنڈ ہینڈ کلوٹنگ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد عثمان فاروقی نے کہا کہ استعمال شدہ کپڑوں کی مانگ بڑھتی غربت سے جڑی ہوئی ہے، لیکن اس پر لگنے والے مختلف ٹیکسز (10٪ ریگولیٹری ڈیوٹی، 5٪ کسٹمز ڈیوٹی، 6٪ ایڈوانس انکم ٹیکس، اور 5٪ سیلز ٹیکس) کم آمدنی والے طبقے کے لیے مزید بوجھ پیدا کر رہے ہیں۔

مارکیٹ میں درآمد شدہ سیکنڈ ہینڈ جینز 300–400 روپے، قمیضیں 250–300 روپے اور سپورٹس جوتے 600–800 روپے میں دستیاب ہیں، جبکہ نئے مقامی جوتے 2,500–3,500 روپے اور درآمد شدہ برانڈڈ جوتے 4,000–5,500 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد کا زیادہ حصہ یورپ، امریکا، جاپان، کوریا، چین اور کینیڈا سے ہوتا ہے، جن میں سے بہتر معیار کی اشیا دوبارہ برآمد کر دی جاتی ہیں، جبکہ صرف 10–20 فیصد مقامی مارکیٹ میں آتی ہیں۔فاروقی کے مطابق اگر حکومت ریگولیٹری ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز میں کمی کرے تو پسماندہ طبقے کو فوری ریلیف مل سکتا ہے اور یہ شعبہ عوام کے لیے ایک مؤثر سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔