تنظیمی معاملات پر بات چیت کیلئے پنجاب آیا ہوں، ‘ہمایوں خان

حالات خراب ہوئے ، حکومت نے سیکورٹی اداروں سے ملکر ٹھیک کرنیکی کوشش کی:سید حسن مرتضیٰ  
لاہور(خصوصی رپورٹر)سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی ہمایوں خان نے پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی اور سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ کیساتھ پریس کانفرنس کی‘پریس کانفرنس میں رانا فاروق سعید ،احسن رضوی،عائشہ نواز چودھری،راو بابر جمیل آصف بشیر بھاگٹ،روبینہ شاہین وٹو،چودھری اختر،فائزہ ملک،احمد گھمن،عبد الرزاق سلیمی،منیبہ مخدوم،چودھری ریاض شریک ہوئے‘ہمایوں خان نے کہا تنظیمی معاملات پر بات کرنے کیلیے پنجاب آیا ہوں،ہم سیاست بچاتے یا ملک۔ لہذا کڑوا فیصلہ کرنا پڑا۔سب سے پہلے ملک اور عوام پھر سیاست ہو گی ‘جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی نے کہاہم چاہتے ہیں کہ امن وامان،بیروز گاری اور مہنگائی پر بات کرنا چاہتے ہیں ‘حالات بتدریج خراب ہوئے ہیں اور حکومت نے سیکورٹی اداروں سے ملکر انہیں ٹھیک کرنیکی کوشش کی‘آئینی مگر نا پسندیدہ چیزیں کرنا پڑی ہیں۔پیپلز پارٹی کے صدر کے دستخط ڈے سنچری ضرور جاری ہوئی ہے مگر یہ آئینی تقاضہ تھا‘یہ سنری حکومت پاکستان نے جاری کی جسے بھاری دل۔کئساتھ پیپلز پارٹی نے آئینی اختیار استعمال کیا‘پیپلز پارٹی نے ڈائیلاگ کے ذریعے حالات ٹھیک کرنیکی کوشش کی مگر اسکا منفی جواب ملا ‘اپنا سیاسی نقصان کر کے ریاست کیساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔اللہ کرے ہم پاکستان اور اسکے عوام کا تحفظ کر سکیں۔ایک طرف بھارت پاکستان اور اسکی سیاسی و فوجی کامیابیاں دیکھ کر پریشان تھا‘تحریک انصاف میں اچھا سو چنے والے ہیں مگر وہاں سب سے پہلے پاکستان نہیں کہا جاتا‘عوام ریاست سے روٹی ،کپڑا اور مکان کا تقاضہ کرتے ہیںزرعی شعبے پر ٹیکس 15فیصد سے بڑھا کر 45فیصد کر دیا گیا۔سوہر ٹیکس لگا کر انڈسٹری تباہ۔کی گئی ہے ‘گورنر راج ہمارے لیے فخر یا خوشی کی بات نہیں۔جب وزیر اعلی کے پی بات نہیں کرنا چاہتے تو گورنر راج کے علادہ۔کوئی حل نہیں تھا۔افواج پاکستان کی قربانیوں سے انکار نہیں۔انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔فیصل واڈا کو پتہ ہونا چاہیے کہ انہیں سینٹ میں سیاسی جماعتوں نے پہنچایا‘آپ اس طرح خود کو بری الزمہ نہیں ہو سکتے انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔کیا کے پی کے اندر شام 5بجے کے بعد کوئی باھر نکل سکتا تھا ‘وھاں کی حکومت نے افغان حکومت کو وھاں آنے کی دعوت دی۔پیپلز پارٹی نے کے پی میں گورنر راج لگانے میں ایک ماہ لگا دیا۔کیا غنڈہ راج سے کے پی میں گورنر راج بد تر ہے۔آپ مارے مارے پھر کر سیاسی شہید بن ا چاہتے ہیں‘پھر ریاست کو کہتے ہیں کہ آئینی اختیار کیوں استعمال کیا؟ بات ہلال حرام کی نہیں،کبھی انکے وزیر اعلی یا کابینہ۔کو کسی شہید کے جنازے میں جاتا دیکھا ہے۔ان بیواؤں اور یتیموں سے پوچھیں جنکے مستقبل اپکے مستقبل پر لگ گئے۔پیپلز پارٹی نے ماضی میں اپنی حکومت کیخلاف بھی گورنر راج لگایا تھا۔جس ملک میں امن و امان نہیں وہاں روز گار بھی نہیں ‘بے شک یہ نا پسندیدہ عمل ہے مگر اسکے خلاف آپ نے کیا بشار تھا ‘جب وفاق اور صوبے کی فورسز امنے سامنے آ جائیں تو کیا کرنا چاہیے۔مارشل لاؤں میں قربانی کا بکرا ہمیشہ پیپلز پارٹی بنتی رھی ہے۔حسن مرتضیبینظیر اوربھٹو،شاہنواز شہید ہوئے کیا وہ ہمارا اثاثہ نہیں تھے؟آج پھر پیپلز پارٹی اپنا سیاسی نقصان کر کے ریاست بچانے کیلئے کھڑی ہے‘ہم آئینی راہ نکالتے ہیں تو ہمیں آمریت یا 12اکتوبر والی ایمر جنسی کیساتھ نہ۔کھڑا کیا جائے۔تحریک انصاف ایشو بیسڈ احتجاج کرتی تو انکا احتجاج ریکارڈ ہوتا مگر وہ صرف قیدی چھڑانا چاہتے تھے۔ایک بندہ چھڑانے کیلئے پوری ریاست کو مفلوج کر دی جاتی ہے حہم نے کوئی ایکسکیوز نہیں کیا بلکہ اصل حالات سامنے لائے ہیں۔شہزاد سعید چیمہ نے کہاایمر جنسی پیپلز پارٹی نے نہیں لگائی۔چیئرمین بلاول بھٹو نے مذاکرات کے ذریعے معاملہ سلجھانے کی بات کی ‘پی ٹی آئی کا وفد نیک نیتی سے آیا تھا لیکن سہیل آفریدی نے اپنے وفد کوبے اختیار کیا۔کیا وزیر اعلی ایسا کر کے صوبے سے بھی تحریک انصاف ختم کرنا چاہتے تھے ؟نا مساعد حالات میں صدر کو وزیر اعظم کی سمری پر دستخط کرنے ہڑے۔