لاہور: پنجاب حکومت نے تمام ٹول پلازوں پر پرچی کا نظام ختم کر کے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں بتایا گیا کہ 38 ٹول پلازوں پر موٹروے کی طرز پر "ون ایپ، ون سسٹم" متعارف کرایا جائے گا، تاکہ عوام کو سہولت، آمدورفت میں تیزی اور شفافیت میسر ہو۔اجلاس میں 5 بڑی سڑکوں کی تعمیر، مرمت اور بحالی کے منصوبے بھی منظور کیے گئے، جو پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے تحت مکمل ہوں گے۔ای-ٹینڈرنگ کے ذریعے پنجاب میں 40 ارب روپے کی بچت ہوئی، اور نئی سڑکوں پر سولر سٹریٹ لائٹس نصب کرنے کا حکم دیا گیا۔
لاہور کی بیوٹیفکیشن اور انفراسٹرکچر:
ریلوے اسٹیشن، داتا دربار، مصری شاہ، ایک موریہ اور دو موریہ پل کی خوبصورتی اور ری ویمپنگ کی جائے گی۔ریلوے اسٹیشن کے سامنے پارک میں فوارہ اور بچوں کے لیے منی ٹرین چلائی جائے گی، جبکہ اسٹیشن کے اطراف 3 کلومیٹر کے دائرے میں نئی سڑکیں اور فٹ پاتھ تعمیر کیے جائیں گے۔
سی اینڈ ڈبلیو اور ایل ڈی اے کے پراجیکٹس:
حالیہ سیلاب سے متاثرہ 54 پل، 142 چھوٹے پل اور 858 سڑکیں مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔93 کلومیٹر طویل ملتان-وہاڑی روڈ پنجاب کی پہلی ڈسٹ فری سڑک بن رہی ہے، جو جون 2026 تک مکمل ہوگی۔قائداعظم انٹرچینج سے واہگہ بارڈر تک ٹورازم کوریڈور بھی جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
صوبے بھر کے منصوبے:
پنجاب میں 5251 کلومیٹر طویل سڑکوں کے 2341 منصوبے دسمبر 2025 میں شروع ہوں گے، اور جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے۔مری، چکوال اور ساہیوال کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے پراجیکٹس مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ سی ایم پنجاب کی انیشیٹیو کے تحت 10 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے آخری مراحل میں ہیں۔یہ اقدامات صوبے میں ٹرانسپورٹ، توانائی کی بچت، شہری خوبصورتی اور انفراسٹرکچر کے معیار کو بلند کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت ہیں۔