رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت مسلم ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے کل ایرانی صدر سے بات چیت کی اور سعودی عرب کا دورہ بھی کیا، جس سے امید ظاہر کی گئی کہ حالات بہتر ہوں گے۔رانا ثناء اللہ کے مطابق پاکستانی قیادت مسلم ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اور سعودی عرب کی پالیسی یہ ہے کہ وہ فوری ردعمل نہیں دے رہا، جس کی وجہ سے دیگر ممالک سے اسی نوعیت کی توقع رکھنا غیر منطقی ہے۔افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ تو قبضہ کرنا چاہتا ہے اور نہ نقصان پہنچانا، بلکہ اپنے نقصان سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔گورنر سندھ کے معاملے پر رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ طے ہوا تھا کہ بلوچستان اور سندھ کے گورنر کی تعیناتی ن لیگ سے ہوگی اور ایم کیو ایم سے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا گیا کہ گورنر سندھ ایم کیو ایم کا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ کامران ٹیسوری کی تعیناتی نگراں حکومت کے دوران ہوئی تھی، اور چونکہ معاملات ٹھیک چل رہے تھے، فوری تبدیلی ضروری نہیں سمجھی گئی۔
تاہم موجودہ صورتحال میں گورنر سندھ کو تبدیل کرنا مناسب سمجھا گیا۔ انوار الحق کاکڑ اس حوالے سے بہتر وضاحت دے سکتے ہیں کہ تعیناتی کس کی سفارش پر ہوئی تھی۔رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ گورنر کی تبدیلی کے دوران ایم کیو ایم کے ساتھ طریقے اور سلیقے سے بات چیت جاری رہی اور ایم کیو ایم نے سندھ کے گورنر کے حوالے سے کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کراچی سے متعلق تمام مطالبات پورے کیے گئے ہیں اور مزید کوششیں جاری رہیں گی۔رانا ثناء اللہ: “گورنر سندھ کی تبدیلی ن لیگ کے تحت، ایم کیو ایم کے مطالبات پورے کیے گئے ہیں۔”