اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف بی آر افسران کی پروموشن پر روکنے کا حکم امتناع ختم کر دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف بی آر افسران کی پروموشن پر روکنے کا حکم امتناع ختم کر دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف بی آر افسران کی پروموشن کے عمل کو روکنے والے حکم امتناع کو ختم کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔

 جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی سربراہی میں عدالت نے ہائی پاور سلیکشن بورڈ کو ایک ماہ کے اندر ایف بی آر افسران کی پروموشن کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے کہا کہ پروموشن بورڈ کی کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی، اور حکم امتناع ختم کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ اب ایف بی آر افسران کی پروموشن پر بورڈ ایک ماہ کے اندر فیصلہ کرے گا۔یہ فیصلہ درخواست گزار شاہ بانو کی پٹیشن کے بعد آیا، جس میں ایف بی آر افسران کی ترقی کے لیے ہائی پاور سلیکشن بورڈ کا اجلاس نہ بلانے کا حکم دیا گیا تھا۔

 عدالت نے 11 مارچ کو ایف بی آر افسران کی پروموشن کے لیے بورڈ کا اجلاس نہ بلانے کا حکم دیا تھا، اور اس حکم میں 14 مارچ تک توسیع کی تھی۔اس کے علاوہ، عدالت نے ان لینڈ ریونیو اور کسٹم افسران کی گریڈ 21 سے 22 میں ترقی کے لیے اجلاس بلانے کے حکم امتناع کو بھی ختم کر دیا۔سماعت کے دوران جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے یہ بھی کہا کہ اگر اوپر دیانتداری ہو تو نیچے بھی ہو گی، اور اگر اوپر معاملات ٹھیک نہ ہوں تو نیچے بھی مسائل ہوں گے۔