سابق ایس ایچ او ڈیفنس اے میاں سجاد نے منشیات کے ملزموں کو 17 لاکھ روپے رشوت لے کر چھوڑدیا
کال سنٹر سے 9 لاکھ لینے کا الزام ،سب انسپکٹر سیلمان اکبر سابق ایس ایچ او فیصل ٹاون انکوائری میں قصور وار نکلے
لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور پولیس نے محکمانہ احتساب کی نئی مثال قائم کر دی۔پہلی بار کرپشن اور اختیارات سے تجاوز ثابت ہونے پر دو ایس ایچ اوز کے خلاف انہی کے تھانوں میں مقدمات درج کر لیئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سابق ایس ایچ او ڈیفنس اے محمد سجاداورسابق ایس ایچ او فیصل ٹاون سب انسپکٹر سیلمان اکبرکے خلاف شکایات موصول ہونے کا انکوائری کا حکم دیا تھا۔ ایس ایس پی آپریشنز تصور اقبال کی انکوائری میں دونوں ایس ایچ اوز قصور وار ثابت ہوئے۔ سابق ایس ایچ او میاں سجاد نے منشیات کے ملزمان سے 17 لاکھ روپے رشوت وصول کی اور انہیں چھوڑدیا۔ پولیس کی مدعیت میں میاں سجاد کے خلاف 155 سی کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا سلیمان اکبر نے کال سنٹر پر ریڈ کیا اور 9 لاکھ رشوت لیکرچھوڑ دیا۔ اسی طرح سابق ایس ایچ او فیصل ٹاون سب انسپکٹر سیلمان اکبراور اس کے ماتحت کانسٹیبل مقبول شاکر پربھی 155 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایک سابق ایس ایچ او گرفتارجبکہ دوسرے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پولیس والوں سمیت کوئی بھی قانون سے ہر گز بالاتر نہیں۔ پولیس میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹ پولیس افسران کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔ اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کو کوئی معافی نہیں۔