حکومت 200سے زائد یونٹس کی پالیسی پر نظرثانی کرے

خالد مسعود 
پاکستان اس وقت مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ عام آدمی کی آمدنی محدود ہے جبکہ روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، ادویات اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، خصوصاً 200 سے زائد یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بہت زیادہ ریٹ مقرر کرنا، عوام کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ بہت سے شہری اس پالیسی کو حکومت کی سختی اور عام لوگوں پر اضافی مالی بوجھ قرار دیتے ہیں۔ خاص طور پر 200 سے زائد یونٹس استعمال کرنے والے صارفین سے زیادہ قیمت وصول کرنا لاکھوں خاندانوں کے لیے شدید پریشانی کا سبب بن گیا ہے۔200 یونٹس کی حد عبور کرتے ہی بجلی کے فی یونٹ قیمت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث معمولی فرق سے بھی ہزاروں روپے کا اضافی بل آ جاتا ہے۔ ایک کم آمدنی والے خاندان اگر صرف چند یونٹس زیادہ استعمال کر لے تو اس کا پورا بجٹ متاثر ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال عوام کے لیے پریشانی، بے چینی اور مایوسی کا باعث بنتی ہے۔
گرمی کے شدید موسم میں پنکھے، فریج، پانی کی موٹر اور بعض علاقوں میں اے سی کا استعمال مجبوری بن جاتا ہے۔ یہ سہولیات اب آسائش نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں۔ ایسے حالات میں 200 یونٹس کی حد کے اندر رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ جب لوگ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بجلی استعمال کرتے ہیں تو انہیں اس کی سزا مہنگے بلوں کی صورت میں ملتی ہے۔درمیانی اور کم آمدنی والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایک طرف بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، علاج اور دیگر اخراجات پورے کرنا مشکل ہے، دوسری طرف بجلی کے بھاری بل ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ کئی گھرانوں کو بل ادا کرنے کے لیے قرض لینا پڑتا ہے یا دوسری ضروریات میں کمی کرنا پڑتی ہے، جس سے ان کا معیارِ زندگی مزید گر جاتا ہے۔عوام کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جب کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور بجلی کی بار بار بندش جیسے مسائل موجود ہیں تو پھر اتنی زیادہ قیمت وصول کرنا مناسب نہیں۔ اگر صارف پوری قیمت ادا کر رہا ہے تو اسے معیاری اور مسلسل بجلی کی فراہمی بھی ملنی چاہیے۔
حکومت کا مؤقف ہو سکتا ہے کہ بجلی کی پیداوار، درآمدی ایندھن، قرضوں اور نظام کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قیمت بڑھانا ضروری ہے۔ تاہم عوام کا مطالبہ ہے کہ مالی مشکلات کا تمام بوجھ صرف صارفین پر ڈالنے کے بجائے بجلی چوری کی روک تھام، بجلی کے ضیاع میں کمی، انتظامی اخراجات میں بچت اور توانائی کے سستے ذرائع پر زیادہ توجہ دی جائے۔ اس سے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانا ممکن ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت 200 یونٹس کی حد اور اس سے منسلک قیمتوں پر دوبارہ غور کرے۔ کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے کو زیادہ ریلیف دیا جائے، تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرتے ہوئے بجلی کے ناقابلِ برداشت بلوں سے بھی محفوظ رہ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی، پن بجلی اور دیگر سستے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے تاکہ مستقبل میں عوام کو سستی 
بجلی فراہم کی جا سکے۔ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کی مشکلات کو سمجھے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف ٹیکس اور بل وصول کرنا نہیں بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات مناسب قیمت پر فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر بجلی کی قیمتیں عوام کی آمدنی کے مطابق رکھی جائیں، نظام میں شفافیت لائی جائے اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تو نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ ملک کی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ بجلی ایک بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی قیمتیں بھی ایسی ہونی چاہییں جو عام شہری برداشت کر سکے۔ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، کیونکہ خوشحال عوام ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد ہوتے ہیں۔