قائمہ کمیٹیاں: پی ٹی آئی سینٹرز بھی مستعفی

 بیرسٹر علی ظفر ،ذیشان خانزادہ ،عون عباس بپی،ہمایوں مہمند اور محسن عزیز ،فلک ناز ،فوزیہ ارشد استعفیٰ شامل
دوست محمد ،مرزامحمد ،اعظم سواتی ،فیصل جاویداورنورالحق قادری بھی مستعفی، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں : ارکان
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پرقومی اسمبلی کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ اور رکنیت سے استعفے دینا شروع کر دئیے ،اب تک پاکستان تحریک انصاف کے 12سینیٹرز نیاپنے استعفے چیئرمین سینیٹ کو ارسال کردئیے ہیں ،جن میں 5کمیٹیوں کے چیئرمین بھی شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کے چندر وز بعد ہی پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے سینیٹرز کو بھی کمیٹیوں سے استعفیٰ کی ہدایت کی جس کے بعد سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بیرسٹرعلی ظفر نے قائمہ کمیٹی اطلاعات کی چیئرمین شپ اور دیگرکمیٹیوں کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ،ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم عمران خان کی ہدایت پر اٹھایا ہے۔ سینیٹر ذیشان خانزادہ نے بطور چیئرمین کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی جبکہ بطور رکن خارجہ امور، فنانس اینڈ ریونیو، کامرس اور نجکاری کی کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا۔ سینیٹر عون عباس بپی کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی چیئرمین شپ جبکہ غربت کے خاتمے و سماجی تحفظ، مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، دفاعی پیداوار اور اطلاعات و نشریات کمیٹیوں سے علیحدہ ہوئے ۔سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے بطور چیئرمین پارلیمانی کمیٹی اور بطوررکن آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، آبی وسائل اور انسانی حقوق کی کمیٹیوں سے علیحدگی اختیارکی۔سینیٹر محسن عزیز نے چیئرپرسن پاورکمیٹی کے طور پر استعفیٰ دیا جبکہ فنانس اینڈ ریونیو،پارلیمانی امور ،پٹرولیم اور پرائیویٹائزیشن کمیٹیوں کی رکنیت بھی چھوڑدی۔ سینیٹر دوست محمد نے احتجاج کے طور پر پانچ قائمہ کمیٹیوں حکومتی یقین دہانیاں، انسانی حقوق، فوڈ سکیورٹی، غربت مٹا ئو اور ریلوے کی رکنیت چھوڑدی۔ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے بھی بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پرکامرس، صنعت و پیداوار، تعلیم، توانائی اور بین الصوبائی رابطہ کمیٹیوں کی رکنیت چھوڑی۔سینیٹر اعظم خان سواتی نے اقتصادی امور، صحت، قانون و انصاف اور رولز اینڈ پروسیجر کی کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ موجودہ پارلیمانی نظام کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا ہے کیونکہ ان کمیٹیوں کے ہوتے ہوئے بھی قانون اور آئین کی حکمرانی قائم نہیں ہو رہی،ہم اپنے پارلیمانی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہیں تو ایسی کمیٹیوں کا حصہ بننا بے سود ہے۔سینیٹر فلک ناز چترالی نے موسمیاتی تبدیلی،کم ترقیاتی علاقوں کے مسائل، اکنامک افیئرز اور تعلیم و تربیت کی قائمہ کمیٹیوں کو خیرباد کہہ دیا۔ ان کے علاوہ فیصل جاویدنے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کو آرڈینیشن،انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ ،اوورسیزپاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورسز ڈیویلپمنٹ اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کمیٹیوں ، فوزیہ ارشد نے سینیٹ ہا ئوس ،فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ،کیبنٹ سیکرٹریٹ،تفویض اختیارات ،نیشنل ہیلتھ سروسز ،ریگولیشنز اینڈ کوارڈینیشن اورکم ترقیاتی علاقوں کے مسائل کی کمیٹیوں جبکہ نورالحق قادری نے تفویض کردہ قانون سازی،تفویض اختیارات ،نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ اور مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا۔پی ٹی آئی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ یہ اجتماعی استعفے بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر دئیے گئے ہیں اور اس کا مقصد موجودہ پارلیمانی نظام اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر پبلک اکا ئونٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر سمیت پی ٹی آئی کے 51 ارکان قومی اسمبلی پہلے ہی اپنا استعفیٰ سپیکر قومی اسمبلی کو بھجواچکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تاحال ان استعفوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جب کہ حکومت کی جانب سے استعفے منظور نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔